LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ٹیکنالوجی حصص کی قیمتیں گر گئیں

News Image
امریکہ میں مارکیٹ کے اہم اعلانات سے قبل حصص کی منڈیوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس ریکارڈ سطح سے نیچے آ گیا ہے جس کی وجہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا دباؤ ہے۔
امریکہ میں رواں ہفتے متوقع اہم معاشی واقعات اور مارکیٹ کو متاثر کرنے والے اعداد و شمار کے اعلان سے قبل اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا ہے۔ پیر کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹ کا اختتام ملے جلے رجحانات کے ساتھ ہوا، جہاں خاص طور پر ٹیکنالوجی سیکٹر میں فروخت کا دباؤ نمایاں رہا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 21.51 پوائنٹس یا 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 7,652.86 پر بند ہوا، جو اس کے رواں ماہ قائم ہونے والے ریکارڈ سے قدرے نیچے ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی توجہ اب مستقبل کے ان معاشی اعلانات پر مرکوز ہے جو مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کا منافع کمانے کا رجحان اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ اگرچہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج سمیت دیگر اہم انڈیکسز میں بھی ہلچل دیکھی گئی، لیکن مارکیٹ کا مجموعی مزاج دفاعی نوعیت کا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی اسٹاکس میں حالیہ تیزی کے بعد اب سرمایہ کار قدرے محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ہفتے کے دوران امریکہ میں روزگار کی صورتحال اور افراط زر کے اعداد و شمار جاری کیے جانے کی توقع ہے، جنہیں مرکزی بینک کی مستقبل کی پالیسیوں کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا فیڈرل ریزرو سود کی شرح میں مزید تبدیلیاں لائے گا یا موجودہ سطح کو برقرار رکھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وال اسٹریٹ پر ٹریڈنگ کا حجم محدود رہا اور سرمایہ کار کسی بھی بڑی پیش رفت سے قبل رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر آنے والے دنوں میں معاشی ڈیٹا توقعات کے مطابق رہا تو مارکیٹ میں دوبارہ بحالی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تاہم، فی الحال ٹیکنالوجی سیکٹر کا دباؤ مارکیٹ کے مجموعی انڈیکسز پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں کاروباری اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد اپنے پورٹ فولیوز میں توازن لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء کا کہنا ہے کہ کاروباری ہفتے کا آغاز غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہوا ہے جس کا حتمی نتیجہ جمعہ تک سامنے آنے والے ڈیٹا پر منحصر ہوگا۔