World
لندن میں چینی سفارت خانے کی تعمیر کا معاملہ، ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ
برطانوی عدالت نے پرانے رائل منٹ کے مقام پر چین کے نئے اور بڑے سفارت خانے کی تعمیر کی اجازت دینے کا حکومتی فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اس منصوبے کو مقامی سطح پر کچھ تحفظات کا سامنا تھا لیکن عدالت نے حکومت کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے۔
برطانیہ کی ہائی کورٹ نے ٹاور آف لندن کے قریب واقع پرانے رائل منٹ کے مقام پر چین کے ایک بڑے نئے سفارت خانے کی تعمیر کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کو درست قرار دے دیا ہے۔ عدالت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد طویل عرصے سے زیر التوا اس اہم سفارتی منصوبے کی راہ میں حائل بڑی قانونی رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی امور میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ دارالحکومت کے قلب میں واقع ہونے کی وجہ سے کافی عرصے سے خبروں کی زینت بنا ہوا تھا اور اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ اس مقام پر نئے سفارت خانے کا قیام دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور سفارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت پرانے تاریخی مقام کو جدید سفارتی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے گا تاکہ سفارتی عملے کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ دوسری جانب، اس فیصلے کے بعد مقامی سطح پر سکیورٹی، ٹریفک اور دیگر شہری امور کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، جنہیں قانونی فورمز پر اٹھایا گیا تھا۔ تاہم، عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکومت کے حق میں فیصلہ دے کر اس متنازع معاملے پر فی الحال پردہ ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے بین الاقوامی تعلقات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور چین کو برطانیہ میں اپنا سب سے بڑا سفارتی مشن قائم کرنے کا موقع مل جائے گا، جس سے دوطرفہ تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔