Business
موڈرنا سی ای او کا انتباہ: چین ایم آر این اے ٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے
موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیفن بانسل نے خبردار کیا ہے کہ چین ایم آر این اے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھاری سرکاری فنڈز جھونک رہا ہے۔ انہوں نے کمپنی کی کینسر ویکسین کی پیش رفت اور مارک کے ساتھ شراکت داری کے تناظر میں عالمی مسابقت پر زور دیا ہے۔
موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیفن بانسل نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران عالمی بائیو ٹیکنالوجی کے منظرنامے پر بات کرتے ہوئے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ بانسل کا کہنا ہے کہ چین اس وقت ایم آر این اے (mRNA) ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈز منتقل کر رہا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مسابقت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح کی سرمایہ کاری چین کی جانب سے کی جا رہی ہے، اس سے عالمی سطح پر طبی تحقیق اور پیداوار میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
اس گفتگو کے دوران بانسل نے موڈرنا اور مررک (Merck) کے مابین ہونے والی کینسر ویکسین شراکت داری پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے میلانوما (جلد کے کینسر) کے خلاف ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز کے نتائج کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ ویکسین نہ صرف کینسر کے علاج میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ مستقبل میں دیگر بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ بانسل نے کہا کہ موڈرنا اپنی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
کمپنی کی مالیاتی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے بانسل نے بتایا کہ موڈرنا اپنے مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے مثبت سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کے باوجود، کمپنی اپنی تحقیق اور ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ خاص طور پر ایم آر این اے ٹیکنالوجی، جس نے کووڈ-19 کے دوران اپنی افادیت ثابت کی تھی، اب مختلف اقسام کے کینسر اور متعدی بیماریوں کے علاج میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہے۔
آخر میں، موڈرنا کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی جدت طرازی ہی مستقبل کی کامیابی کی کنجی ہے۔ اگرچہ چین کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے، لیکن موڈرنا اپنی سائنسی برتری برقرار رکھنے کے لیے پر امید ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کینسر کے علاج میں ہونے والی پیش رفت آنے والے سالوں میں طبی سائنس کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گی اور مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوگی۔