Business
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
امریکی وزیر خزانہ کی جانب سے ایران کو عالمی معیشت سے الگ کرنے کی مہم کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تہران پر دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا وہ حالیہ بیان ہے جس میں انہوں نے ایران کو عالمی معیشت سے الگ تھلگ کرنے کے لیے ایک 'غیر معمولی' مہم کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاط برتی جا رہی ہے اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باوجود قیمتوں میں دباؤ دیکھا گیا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے ایران پر یہ دباؤ بڑھانے کا مقصد تہران کو اپنی علاقائی پالیسیوں میں نرمی لانے پر مجبور کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نئی امریکی مہم عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف معاشی پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایرانی تیل عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ اس حکمت عملی کے اعلان کے ساتھ ہی تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں فوری طور پر اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس سے عالمی معاشی استحکام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں کمی وقتی طور پر صارفین کے لیے خوش آئند ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں سپلائی چین میں خلل ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب تہران کی جانب سے ابھی تک اس نئی امریکی دھمکی پر کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے راستوں پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز یا دیگر اہم گزرگاہوں کے حوالے سے کوئی جوابی اقدام اٹھایا گیا تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔ اس وقت مارکیٹ کے کھلاڑی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کی تفصیلات ہی مارکیٹ کا مستقبل طے کریں گی۔
خلاصہ یہ کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ معاشی کشیدگی عالمی منڈیوں کے لیے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ پابندیاں ایران کی معاشی صلاحیت کو کم کرنے میں کتنی موثر ثابت ہوتی ہیں اور اس کے عالمی توانائی کی قیمتوں پر کیا گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں کا مستقبل اب مکمل طور پر جغرافیائی سیاست اور امریکی پابندیوں کی سختی پر منحصر دکھائی دیتا ہے۔