LIVE
Loading Breaking News...

نائن الیون متاثرہ خاتون کی 25 سال بعد شناخت، جدید فرانزک کا کمال

News Image
تقریباً 25 سال بعد جدید فرانزک ٹیکنالوجی کی مدد سے 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والی ایک اور متاثرہ خاتون کی شناخت کر لی گئی ہے۔ اس پیش رفت سے متاثرہ خاندان کو برسوں بعد اپنے پیارے کے بارے میں حتمی معلومات ملنے پر کچھ سکون ملا ہے۔
امریکی شہر نیویارک میں 11 ستمبر 2001 کو پیش آنے والے المناک دہشت گردی کے واقعے کو تقریباً ڈھائی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی حکام کی جانب سے متاثرین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حال ہی میں سٹی حکام نے ایک اہم پیش رفت کے بارے میں اعلان کیا ہے جس کے تحت نائن الیون کے دوران ہلاک ہونے والی ایک اور خاتون کی باقیات کی سائنسی بنیادوں پر شناخت کر لی گئی ہے۔ یہ عمل جدید فرانزک ٹیکنالوجی اور بہتر لیبارٹری تکنیکوں کی مرہون منت ممکن ہوا ہے جس نے طویل عرصے سے لاپتہ افراد کے خاندانوں کو ایک بڑی تسلی فراہم کی ہے۔ اس خاتون کی شناخت کے بعد اب ان کے لواحقین کو ایک طویل انتظار کے بعد اپنے پیاروں کے بارے میں حتمی معلومات مل سکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ شناخت نائن الیون کے متاثرین کے لیے قائم کردہ خصوصی فرانزک یونٹ کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے، جو برسوں بعد بھی پیچیدہ ڈی این اے نمونوں کا تجزیہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس کیس کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید سائنسی آلات اور ڈیٹا کے تجزیے سے کئی پرانے اور حل طلب کیسز کو نمٹایا جا سکتا ہے۔ نیویارک کے چیف میڈیکل ایگزامینر کے دفتر نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کو اس پیش رفت سے براہ راست مطلع کیا گیا ہے، اور ان کی پرائیویسی کا مکمل احترام کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے بہت سے لوگوں کی باقیات اب بھی شناخت کی منتظر ہیں۔ ٹیکنالوجی میں ہونے والی مسلسل بہتری کے باعث حکام کو امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں مزید خاندانوں کو اپنے بچھڑنے والوں کے بارے میں حتمی خبریں مل سکیں گی۔ یہ عمل نہ صرف سائنسی تحقیق کا ایک شاہکار ہے بلکہ ان ہزاروں متاثرین کے لیے ایک جذباتی ریلیف بھی ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس دلخراش سانحے میں کھو دیا تھا۔ حکام کے مطابق اس کیس میں استعمال ہونے والی فرانزک تکنیک انتہائی جدید نوعیت کی تھی جس نے تباہ شدہ اور پرانی باقیات سے ڈی این اے کے چھوٹے سے چھوٹے ٹکڑے کو کشید کر کے شناخت کے عمل کو کامیاب بنایا۔ یہ پیش رفت نائن الیون کی تاریخ میں ایک اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ انصاف اور حقیقت تک رسائی کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔