LIVE
Loading Breaking News...

AI کمپنیوں میں شفافیت کا فقدان: ڈیٹا کے تحفظ پر سوالات

News Image
ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس بنانے والی دو تہائی کمپنیاں اپنے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور استعمال کے حوالے سے شفافیت قائم رکھنے میں ناکام ہیں۔ صارفین کا ان ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اعتماد بحال کرنے کے لیے ڈیٹا مینجمنٹ کے بارے میں واضح پالیسیاں اپنانا ناگزیر ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی جس تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں پھیل رہی ہے، اس کے ساتھ ہی صارفین کے نجی ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک تازہ ترین تحقیق میں یہ چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں کام کرنے والی تقریباً دو تہائی کمپنیاں اپنے صارفین کو یہ بتانے میں ناکام رہی ہیں کہ ان کا جمع کردہ ڈیٹا دراصل کہاں استعمال ہو رہا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کی ترقی اپنی جگہ، لیکن صارفین کا اعتماد اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کمپنیاں ڈیٹا کے حوالے سے کتنی شفافیت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ تحقیق میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بہت سی کمپنیاں اپنے الگورتھمز کو بہتر بنانے کے لیے صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا وسیع پیمانے پر استعمال کرتی ہیں، تاہم جب بات اس ڈیٹا کی سیکیورٹی یا اسے تیسرے فریق کے ساتھ شیئر کرنے کی آتی ہے، تو کمپنیاں خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ شفافیت کے اس فقدان کی وجہ سے صارفین میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا ان کی نجی معلومات محفوظ ہاتھوں میں ہیں یا نہیں۔ ڈیٹا کے غلط استعمال کا ڈر صارفین کو نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے بھی روک رہا ہے، جو کہ ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں مسابقت کے ساتھ ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا پروٹیکشن پالیسیوں کو سادہ اور عام فہم زبان میں صارفین کے سامنے پیش کریں۔ موجودہ صورتحال میں حکومتی سطح پر بھی سخت قوانین کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ ٹیک کمپنیاں جوابدہ بن سکیں۔ اگر کمپنیاں شفافیت کو ترجیح نہیں دیں گی تو طویل مدتی بنیادوں پر ان کا کاروباری ماڈل خطرے میں پڑ سکتا ہے کیونکہ عالمی سطح پر صارفین اب اپنے ڈیٹا کے حقوق کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ بیدار ہو چکے ہیں۔ آخر میں، یہ تحقیق اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ٹیک انڈسٹری کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ صرف فیچرز اور کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی، بلکہ صارفین کا بھروسہ جیتنے کے لیے ڈیٹا کے استعمال کے شفاف طریقہ کار کو اپنانا کامیابی کی کلید ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ریگولیٹرز اور کمپنیاں ڈیٹا پرائیویسی کے عالمی معیارات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔