Politics
حکیم جیفریز اور جیرڈ کشنر: امریکی سیاست میں نئی بحث
امریکی ایوان نمائندگان کے اقلیتی لیڈر حکیم جیفریز کے جیرڈ کشنر کے ساتھ قریبی تعلقات پر سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی حلقے اور ترقی پسند ارکان اس سیاسی قربت کو پارٹی کے نظریاتی موقف کے منافی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی ایوان نمائندگان میں اقلیتی لیڈر حکیم جیفریز کا جیرڈ کشنر کے ساتھ بڑھتا ہوا میل جول اور سیاسی ہم آہنگی امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ نیویارک کے ڈیموکریٹک سوشلسٹ اور ترقی پسند حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکیم جیفریز کا جیرڈ کشنر جیسے متنازعہ اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی کے ساتھ تعلق استوار کرنا پارٹی کے اندرونی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ صورتحال ڈیموکریٹک پارٹی کی اس قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے جو پہلے ہی نظریاتی تقسیم کا شکار ہے۔
دوسری جانب سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکیم جیفریز کی یہ حکمت عملی درحقیقت کانگریس کے اندر اہم معاملات پر اثر و رسوخ بڑھانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ 'کوزی اپ' یا قربت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں بازو کے ارکان اپنی قیادت کو مزید سخت گیر موقف اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور عوامی احتجاج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پارٹی کا نچلا طبقہ اور فعال کارکنان حکیم جیفریز کے اس طرزِ عمل سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ قربت پارٹی کے بنیادی نظریات سے انحراف کے مترادف ہے۔
یہ سیاسی منظرنامہ اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو گیا ہے جب ریپبلکن پارٹی کی جانب سے بھی اس غیر معمولی دوستی پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ حکیم جیفریز جو اب تک اپنی متوازن قیادت کے لیے جانے جاتے تھے، اب ان کے لیے پارٹی کو متحد رکھنا ایک بڑی چیلنج بن چکا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا جیفریز کی یہ پالیسی طویل مدتی سیاسی فوائد دے گی یا پھر یہ آنے والے انتخابات میں پارٹی کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی۔ آنے والے چند ہفتوں میں ہونے والی پیش رفت ہی یہ واضح کرے گی کہ آیا حکیم جیفریز اپنی اس پالیسی کا دفاع کر پائیں گے یا انہیں اپنے ووٹرز کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔