LIVE
Loading Breaking News...

یورپ کا کھاد بحران اور بائیو گیس کا حل: ایک نئی پیش رفت

News Image
یورپ میں قدرتی گیس کے بڑھتے ہوئے بحران نے زراعت کے شعبے کو کھاد کی قلت کا شکار کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بائیو گیس پلانٹس کو کھاد بنانے والی فیکٹریوں میں بدل کر اس مسئلے کا پائیدار حل نکالا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں کھاد کا بحران عام طور پر قدرتی گیس کی قیمتوں سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔ جب بھی عالمی منڈی میں گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو امونیا کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کھاد بنانے والے کارخانے اپنی پیداوار کم یا بند کر دیتے ہیں۔ یہ صورتحال کسانوں کو ایک ایسے عالمی سپلائی چین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھاد کے بحران کا یہ تجزیہ درست تو ہے لیکن نامکمل ہے، کیونکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہمیں روایتی گیس پر انحصار ختم کر کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یورپ میں اب بائیو گیس پلانٹس کو کھاد کی پیداوار کے مراکز میں تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ بائیو گیس، جو نامیاتی مادوں کے گلنے سڑنے سے پیدا ہوتی ہے، توانائی کا ایک قابل تجدید ذریعہ ہے۔ اگر اس عمل کے دوران نکلنے والے ضمنی مصنوعات (by-products) کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کھاد میں تبدیل کیا جائے تو یورپ اپنی زرعی ضروریات کے لیے درکار کھاد کا ایک بڑا حصہ خود تیار کر سکتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف کسانوں کو مہنگی درآمدی کھاد سے نجات دلائے گا بلکہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اس تبدیلی کے لیے یورپی یونین کو اپنی پالیسیوں میں اصلاحات کی ضرورت ہوگی تاکہ بائیو گیس پلانٹس آپریٹرز کو کھاد سازی کی جانب راغب کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سرمایہ کاری کی جائے تو یہ پلانٹس بیک وقت بجلی اور کھاد دونوں فراہم کرنے والے مراکز بن سکتے ہیں۔ اس سے یورپ کی فوڈ سیکیورٹی مستحکم ہوگی اور اسے عالمی گیس مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے تحفظ ملے گا۔ اس حکمت عملی کا اطلاق مستقبل میں زرعی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، بائیو گیس کو کھاد کی پیداوار سے جوڑنا ایک انقلابی خیال ہے جو روایتی صنعتی ماڈل کو پائیدار زرعی نظام میں تبدیل کر سکتا ہے۔ حکومتوں اور نجی شعبے کے اشتراک سے یہ منصوبہ نہ صرف کھاد کی قلت کو ختم کر سکتا ہے بلکہ یورپ کے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ عالمی زرعی منڈی پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔