LIVE
Loading Breaking News...

سینیٹ میں عمران خان کے طبی علاج پر ہنگامہ اور بحث

News Image
سینیٹ کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے بانی کے طبی علاج اور جیل میں سہولیات کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں شدید بحث ہوئی۔ حکومت نے ایوان کو یقین دلایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق عدالت عظمیٰ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں ہونے والے سینیٹ کے اجلاس کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے طبی علاج کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایوان کے اندر اور باہر بانی پی ٹی آئی کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا، جبکہ حکومتی وزراء کی جانب سے بھی اس معاملے پر ایوان کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران دونوں اطراف سے سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جو کہ ملکی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی نمائندوں نے سینیٹ کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں پی ٹی آئی کے بانی کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق تمام ہدایات پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔ مسلم لیگ ن اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے لیکن تمام قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وفاقی حکام کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ جیل انتظامیہ اور طبی ماہرین کی رپورٹس کو مدنظر رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جا سکے۔ دریں اثنا، اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں میں چہگوئیاں جاری ہیں جہاں حکومتی ترجمان طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ سابق وزیر اعظم کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مخصوص طبی مراکز تک رسائی دی گئی ہے۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کیشیم سے ان کی ہم ہمشیرہ اور قانونی ٹیم نے ملاقات کی ہے جبکہ پارٹی کی جانب سے عدالتی احکامات کی مبینہ عدولی پر توہین عدالت کی درخواست بھی دوبارہ دائر کی جا چکی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات کا معاملہ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک اہم سیاسی بحث بنا رہے گا۔