LIVE
Loading Breaking News...

چینی یوآن میں گراوٹ: پیپلز بینک آف چائنا کا اہم قدم

News Image
چینی یوآن کی قدر میں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح کے بعد نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ پیپلز بینک آف چائنا کی جانب سے مڈ پوائنٹ ریفرنس ریٹ میں تبدیلی نے کرنسی کی تیزی کو روکنے کا اشارہ دیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں چینی کرنسی یوآن کی قدر میں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اچانک گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس گراوٹ کی بنیادی وجہ پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) کی جانب سے مارکیٹ میں واضح مداخلت اور اشارے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چینی مرکزی بینک یوآن کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قدر کو اب مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس اقدام نے سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ پیدا کر دیا ہے اور کرنسی کی اونچی اڑان کو وقتی طور پر بریک لگ گئی ہے۔ پیپلز بینک آف چائنا نے یوآن کا ڈیلی مڈ پوائنٹ ریفرنس ریٹ 6.7852 مقرر کیا ہے، جو کہ پچھلے ریٹ 6.7841 کے مقابلے میں نمایاں فرق ظاہر کرتا ہے۔ یہ قدم گزشتہ چھ ماہ کے دوران تخمینوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ 'ویک سائیڈ' گیپ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا واضح مقصد یوآن کی تیزی کو قابو میں لانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بینک اس حکمت عملی کے ذریعے کرنسی کی قدر میں مصنوعی اضافے کو روکنا چاہتا ہے تاکہ برآمدات اور ملکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں جیسے کہ UOB کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں یوآن کے مستقبل کے حوالے سے مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوآن کا اگلا ہدف امریکی ڈالر کے مقابلے میں 6.7200 ہو سکتا ہے، تاہم پی بی او سی کی موجودہ مداخلت نے ان پیشنگوئیوں کو چیلنج کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اب چینی مرکزی بینک کے اگلے اقدامات پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں کہ آیا وہ کرنسی کو مزید گراوٹ کی طرف لے جائیں گے یا مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے کوئی نیا لائحہ عمل اپنائیں گے۔ اس صورتحال نے فاریکس مارکیٹ میں ایک غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے جہاں تاجر اپنی حکمت عملیوں کو پی بی او سی کے اشاروں کے مطابق تبدیل کر رہے ہیں۔ چین کی اس پالیسی کا اثر نہ صرف خطے کی دیگر کرنسیوں پر بلکہ عالمی تجارت پر بھی مرتب ہو رہا ہے، کیونکہ یوآن کی قدر میں اتار چڑھاؤ براہ راست عالمی سپلائی چین اور درآمدی لاگت کو متاثر کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا چینی حکام کرنسی کی قدر کو ایک مخصوص رینج میں برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا مارکیٹ کے دباؤ کے باعث انہیں اپنی پالیسیوں میں مزید نرمی کرنی پڑتی ہے۔