Technology
چین میں روبوٹکس کا بڑھتا ہوا استعمال اور صنعتی انقلاب
چین کی جانب سے صنعتی شعبے میں بڑے پیمانے پر آٹومیشن اور روبوٹکس کا استعمال عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے پیداواری صلاحیت تو بڑھے گی لیکن انسانی ملازمتوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
چین اس وقت صنعتی آٹومیشن اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ عالمی منڈیوں میں اپنی برتری برقرار رکھنے اور پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے چین کی مینوفیکچرنگ کمپنیاں بڑی تیزی سے انسانی لیبر کی جگہ روبوٹس اور خودکار مشینوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف کارخانوں میں تیزی لانے کا باعث بن رہا ہے بلکہ اس نے پوری دنیا کے اقتصادی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا مستقبل قریب میں انسانی محنت کی ضرورت باقی رہے گی یا نہیں؟ چین کی حکومت بھی اپنی 'میڈ ان چائنا 2025' حکمت عملی کے تحت مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو قومی ترجیح دے رہی ہے۔
دوسری جانب، اس تکنیکی تبدیلی کے سماجی اور معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ایک فیکٹری میں سینکڑوں مزدوروں کی جگہ خودکار مشینیں لیتی ہیں تو اس کے نتیجے میں بے روزگاری کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم، حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ناگزیر ہے کیونکہ آبادی کی بڑھتی ہوئی عمر اور لیبر کی بڑھتی ہوئی اجرتوں کے تناظر میں روبوٹس کا استعمال ہی پائیدار ترقی کا واحد راستہ ہے۔ چین کے صنعتی مراکز میں کام کرنے والے مزدور اب پیچیدہ مشینوں کی دیکھ بھال اور ان کے پروگرامنگ کے شعبوں میں تربیت حاصل کرنے کی طرف راغب ہو رہے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے اس سیلاب میں اپنا مقام برقرار رکھ سکیں۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ چین کا یہ ماڈل دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں ایک طرف روبوٹس کی وجہ سے کام کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، وہیں دوسری طرف کارکنوں کی مہارتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ روبوٹکس کا استعمال صرف مزدوروں کو ہٹانے کا نام نہیں بلکہ یہ کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کرنے کا ایک عمل ہے۔ آنے والے برسوں میں دنیا بھر میں آٹومیشن کا یہ رجحان مزید تیز ہو گا اور چین اس تکنیکی تبدیلی میں ایک اہم رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے، جس کے دور رس نتائج عالمی تجارت پر مرتب ہوں گے۔