World
اوہائیو: ووٹنگ کے لیے شہریت کا ثبوت لازمی قرار دینے والا قانون معطل
اوہائیو کے ایک وفاقی جج نے ریاست کے اس متنازع قانون کو معطل کر دیا ہے جس کے تحت ووٹر رجسٹریشن کے لیے شہریت کا دستاویزی ثبوت لازمی قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی ہے۔
امریکی ریاست اوہائیو میں ایک اہم قانونی پیش رفت کے دوران، ایک وفاقی جج نے ریاست کے اس متنازع قانون کو عارضی طور پر روک دیا ہے جس کے تحت ووٹنگ کے لیے اندراج کروانے والے افراد کے لیے شہریت کا حتمی دستاویزی ثبوت لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس قانون کا مقصد ریاستی ریپبلکنز کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے مبینہ دعووں کو روکنا تھا، جنہیں تاحال ثابت نہیں کیا جا سکا۔ جج کا یہ حکم ان انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے جنہوں نے اس قانون کو جمہوری حقوق کے منافی قرار دے کر عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اس قانون کے نفاذ سے ان لاکھوں ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا جن کے پاس فوری طور پر شہریت کے اصل کاغذات موجود نہیں ہوتے، حالانکہ وہ قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے اہل ہوتے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہریت کے ثبوت کے سخت تقاضے انتخابی عمل میں رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں اور بہت سے جائز ووٹرز کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں نشاندہی کی کہ انتخابی شفافیت اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن شہریوں کے حقِ رائے دہی کو غیر ضروری پیچیدگیوں میں نہیں الجھایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، ریپبلکن قانون سازوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتخابی سالمیت کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ اقدامات انتخابات کو غیر ملکی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھے تاکہ صرف حقدار افراد ہی اپنا ووٹ ڈال سکیں۔ تاہم، عدالت کا یہ عبوری حکم اب تب تک برقرار رہے گا جب تک اس معاملے پر حتمی قانونی بحث اور کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی۔ اس فیصلے نے امریکہ میں جاری اس بحث کو ایک بار پھر گرما دیا ہے کہ آیا انتخابی اصلاحات کے نام پر شہریوں کے حقوق کو محدود کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اب اوہائیو کے انتخابی حکام کو پرانے ضابطہ اخلاق کے تحت ہی رجسٹریشن کا عمل جاری رکھنا ہوگا، جس میں شہریت کا حلف نامہ کافی سمجھا جاتا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد، ریاستی سطح پر قانونی جنگ کے طول پکڑنے کے قوی امکانات موجود ہیں، کیونکہ فریقین اپنی اپنی قانونی پوزیشن پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں دیگر امریکی ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جہاں اسی طرح کے قوانین کو نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔