LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 7 افراد شہید اور امدادی مرکز تباہ

News Image
غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملے کے نتیجے میں امدادی سامان کا ایک گودام تباہ ہو گیا جس سے کم از کم سات افراد لقمہ اجل بن گئے۔ وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں زندگی کی بنیادی سہولیات مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں ایک اہم امدادی سامان کے گودام کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور کم از کم سات فلسطینی شہری جاں بحق ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق اس حملے سے پہلے ہی محدود وسائل پر انحصار کرنے والی آبادی کے لیے امدادی سامان کی ترسیل کا عمل شدید متاثر ہوا ہے، جس سے خوراک اور ادویات کی قلت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے نے انسانی بنیادوں پر جاری امدادی کارروائیوں کو ایک بہت بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ وزارت نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں زندگی کی بنیادی سہولیات کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے اور طبی مراکز میں ادویات اور آکسیجن کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ شہریوں کے لیے پناہ گاہوں اور محفوظ مقامات کا فقدان ہے، جبکہ امدادی سامان کی تباہی نے قحط جیسی صورتحال کو مزید قریب کر دیا ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اور امدادی تنظیموں کی محدود رسائی کے باعث غزہ کے عوام اب موت اور بھوک کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ گودام میں بڑی مقدار میں غذائی اجناس اور ضروری اشیاء موجود تھیں جو اب ملبے تلے دب کر ضائع ہو چکی ہیں۔ مقامی آبادی کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی پہلے ہی ناممکن حد تک مشکل تھی اور اب اس حملے کے بعد امدادی کاموں کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات مزید معدوم ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کا سلسلہ اسی طرح معطل رہا اور حملے جاری رہے تو آنے والے دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ غزہ کے رہائشی اب کھلے آسمان تلے یا تباہ حال عمارتوں میں اپنی زندگیاں بچانے کے لیے کوشاں ہیں، جبکہ اسرائیلی جارحیت کا دائرہ کار مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔