LIVE
Loading Breaking News...

امریکی میجر جیسن واٹسن: فوجی قوانین کے تحت مواخذے کے مطالبے پر مقدمہ

News Image
امریکی فوج کے ایک میجر جیسن واٹسن کو صدر کے مواخذے کا مطالبہ کرنے اور سیاسی تنقید کرنے پر سنگین فوجی الزامات کا سامنا ہے۔ یہ کارروائی فوجی قوانین کی اس شق کے تحت کی گئی ہے جو حاضر سروس اہلکاروں کو صدر پر تنقید سے منع کرتی ہے۔
امریکہ کی مسلح افواج میں ایک غیر معمولی اور انتہائی سنجیدہ واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک فوجی افسر کو صدر کے خلاف عوامی سطح پر تنقید کرنے اور مواخذے کا مطالبہ کرنے پر باقاعدہ فوجی الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میجر جیسن واٹسن، جو کہ امریکی فوج کا ایک حصہ ہیں، کو ان کے اس عمل کی پاداش میں فوجی قانون کی ایک ایسی شق کے تحت کٹہرے میں لایا گیا ہے جو بہت کم استعمال ہوتی ہے۔ یہ شق واضح طور پر امریکی فوج کے حاضر سروس اہلکاروں کو اپنے کمانڈر ان چیف یعنی صدر کے خلاف کسی بھی قسم کی تضحیک آمیز یا تنقیدی بیان بازی سے منع کرتی ہے۔ میجر جیسن واٹسن کی جانب سے امریکی صدر کے خلاف کی گئی بیان بازی نے پینٹاگون کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فوجی ضابطہ اخلاق کے مطابق، مسلح افواج کے اہلکاروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں غیر جانبدار رہیں اور ملکی قیادت کے فیصلوں پر عوامی رائے زنی سے گریز کریں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میجر کی جانب سے مواخذے کا مطالبہ ایک سیاسی عمل تھا جس نے فوجی نظم و ضبط کی حدود کو پار کیا ہے۔ اس کیس کو اب ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ آزادی اظہار اور عسکری نظم و ضبط کے مابین ایک نازک توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگر میجر جیسن واٹسن پر عائد کردہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں عہدے سے برطرفی یا قید کی سزا بھی شامل ہو سکتی ہے۔ فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی قانون کے تحت عسکری اہلکار سیاسی عمل کا حصہ تو بن سکتے ہیں لیکن ایک خاص حد کے اندر رہ کر، اور صدر کے خلاف عوامی سطح پر اس طرح کی تنقید فوجی یکجہتی کے لیے خطرہ تصور کی جاتی ہے۔ اس معاملے پر امریکی سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کیس کی سماعت کے دوران مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی پیش آئے ہیں مگر موجودہ سیاسی تقسیم کے دور میں یہ معاملہ زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ میجر واٹسن کا دفاع کرنے والے ان کی آزادی رائے کا حوالہ دے رہے ہیں جبکہ استغاثہ کا موقف ہے کہ فوجی وردی میں ملبوس ہونے کے بعد افسران پر اپنی رائے کو محدود رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ کیس اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں امریکی عدالتی اور فوجی نظام کو آزادی اظہار کے دائرہ کار کو دوبارہ متعین کرنا ہوگا۔