LIVE
Loading Breaking News...

امریکی طالبہ سما صفی کی اسرائیلی قید سے رہائی کا معاملہ، امریکی کانگریس کا مطالبہ

News Image
امریکی کانگریس کے اراکین نے نامزد وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیس سالہ امریکی طالبہ سما صفی کی اسرائیل کی قید سے رہائی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔ قانون سازوں نے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اپنی تمام تر سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لانے پر زور دیا ہے۔
امریکی کانگریس کے اراکین کے ایک گروپ نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم بالخصوص نامزد وزیر خارجہ مارکو روبیو پر زور دیا ہے کہ وہ 20 سالہ امریکی طالبہ سما صفی کی اسرائیل کی حراست سے رہائی کے لیے فوری طور پر اپنے تمام تر سفارتی اور قانونی اختیارات استعمال کریں۔ سما صفی کی حراست کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکی قانون سازوں کے درمیان تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جس پر اب کانگریس کے اراکین نے کھل کر آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔ قانون سازوں کا ماننا ہے کہ ایک امریکی شہری کی اس طرح طویل عرصے تک حراست دونوں ممالک کے تعلقات اور امریکی شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کرتی ہے۔ خط میں مارکو روبیو سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اس معاملے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کریں اور اسرائیلی حکام کے ساتھ براہ راست رابطے کے ذریعے سما صفی کی رہائی کو یقینی بنائیں۔ کانگریس کے اراکین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وافر سفارتی وسائل موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر ایک امریکی نوجوان کی زندگی اور مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے شہریوں کی حفاظت کرے، خاص طور پر جب معاملہ ایک ایسے ملک کے ساتھ جڑا ہو جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے۔ اس معاملے پر اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امریکی قانون سازوں کا یہ مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک ابتدائی سفارتی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے کیونکہ کانگریس کے متعدد اراکین سما صفی کی رہائی کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے مسائل پر بھی متوازن پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔ فی الحال، سما صفی کے اہل خانہ اور ان کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا اور مختلف فورمز پر آواز اٹھائی جا رہی ہے تاکہ اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔ امریکی کانگریس کے اراکین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک سما صفی اپنے گھر صحیح سلامت واپس نہیں پہنچ جاتیں۔ یہ مطالبہ امریکی خارجہ پالیسی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط پیغام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔