LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا سینٹرز میں چینی ٹیکنالوجی اور اے آئی کے قوانین میں تبدیلی

News Image
ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیٹا سینٹرز میں چینی ساختہ ٹیکنالوجی پر وفاقی سطح پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے سخت قانونی ذمہ داریوں کا نفاذ کرنا ہے۔
ریاست ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے ایک اہم پالیسی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد امریکہ کے اہم ترین انفراسٹرکچر بالخصوص ڈیٹا سینٹرز میں چینی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ پیکسٹن کے مطابق، قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ حساس ڈیٹا مراکز میں استعمال ہونے والے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر پر سخت نگرانی رکھی جائے اور چینی ساختہ ٹیکنالوجی کے استعمال پر مکمل وفاقی پابندی عائد کی جائے۔ ان کا موقف ہے کہ چینی ٹیکنالوجی امریکی شہریوں کی نجی معلومات اور قومی مفادات کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے سپلائی چین میں شفافیت لانا انتہائی ضروری ہے۔ اس تجویز کا دوسرا اہم پہلو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے حوالے سے سخت قانونی لائحہ عمل کا نفاذ ہے۔ کین پیکسٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں اور افراد کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کا آغاز کیا جائے جو اے آئی کا استعمال نقصان دہ مقاصد یا غلط معلومات پھیلانے کے لیے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کے نتائج کے لیے زیادہ جوابدہ ہونا چاہیے، خاص طور پر جب ان کے پلیٹ فارمز سے معاشرتی نقصان یا قانونی خلاف ورزیوں کا خدشہ ہو۔ یہ اقدام ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے اور کمپنیوں کو اپنی اے آئی ماڈلز کی حفاظت اور اخلاقیات پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کرے گا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پیکسٹن کی یہ تجاویز نہ صرف ڈیٹا سینٹر کے موجودہ آپریشنز کو متاثر کریں گی بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گی۔ اگر ان تجاویز کو قانونی حیثیت دی جاتی ہے تو امریکی کمپنیوں کو اپنی سپلائی چین میں فوری طور پر متبادل تلاش کرنے پڑیں گے، جس سے ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں بڑی ہلچل متوقع ہے۔ دوسری جانب، یہ اقدام امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجیکل خود انحصاری کی حکمت عملی کا ایک حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے وہ چین کے ساتھ جاری ٹیکنالوجی جنگ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ مستقبل میں اس قانون سازی کے اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ امریکی حکومت اب اے آئی اور ڈیٹا کے تحفظ کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ کین پیکسٹن کے مطالبات ان بڑھتے ہوئے تحفظات کی عکاسی کرتے ہیں جو امریکی قانون سازوں کو چینی ٹیکنالوجی اور غیر منظم اے آئی کے پھیلاؤ کے حوالے سے درپیش ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ بحث مزید زور پکڑ سکتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے فروغ اور قومی سیکیورٹی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے، جبکہ کمپنیوں کو جوابدہی کے سخت دائرہ کار میں لایا جائے۔