World
امریکہ کا ایچ-1 بی ویزا فیس میں بڑا اضافہ، درخواست گزاروں پر بھاری بوجھ
امریکی حکومت نے ایچ-1 بی ویزا کی کیپ سبجیکٹ درخواستوں کے لیے ایک لاکھ تین ہزار دو سو پینسٹھ ڈالر کی اضافی فیس تجویز کی ہے۔ یہ اقدام غیر ملکی ہنر مندوں کے لیے امریکہ میں کام کرنے کے عمل کو مزید مہنگا اور مشکل بنا سکتا ہے۔
امریکہ نے ایچ-1 بی ویزا کے حصول کے خواہشمند غیر ملکی افراد اور کمپنیوں کے لیے ایک انتہائی اہم اور غیر متوقع فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، امریکی حکام کی جانب سے ایچ-1 بی ویزا کی کیپ سبجیکٹ درخواستوں پر ایک لاکھ تین ہزار دو سو پینسٹھ ڈالر کی بھاری اضافی فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس نئے ٹیکس یا فیس کا اطلاق ان تمام درخواستوں پر ہوگا جو ایچ-1 بی ویزا کوٹے کے تحت آتی ہیں، بشمول وہ درخواستیں جو اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے استثنیٰ کے اہل افراد کی جانب سے جمع کرائی جاتی ہیں۔
اس تجویز کے بعد ٹیک انڈسٹری اور بیرون ملک سے آنے والے پیشہ ور افراد میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی کانگریس کی جانب سے اس قسم کے اقدامات کا مقصد بظاہر ملکی وسائل کا تحفظ اور مقامی لیبر مارکیٹ کو ترجیح دینا بتایا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کمپنیوں کے لیے ناممکن ہوگی۔ اس اضافی فیس کا اثر نہ صرف بڑی کارپوریٹ کمپنیوں بلکہ ان چھوٹے اسٹارٹ اپس پر بھی پڑے گا جو امریکہ میں اختراعی ٹیکنالوجیز اور خدمات فراہم کرنے کے لیے غیر ملکی ٹیلنٹ پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو امریکہ میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔ ایچ-1 بی ویزا ہمیشہ سے ہی دنیا بھر کے انجینئرز، ڈاکٹرز اور آئی ٹی ماہرین کے لیے ایک پرکشش راستہ رہا ہے، لیکن اس قدر بھاری اخراجات کے بعد بہت سے ہنر مند افراد دوسرے ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کانگریس میں اس پر مزید بحث و مباحثہ متوقع ہے، جس کے دوران مختلف تجارتی تنظیمیں اور لابی گروپس اس تجویز کی مخالفت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
فی الحال، یہ پیش رفت صرف ایک تجویز کی سطح پر ہے، لیکن اس نے بین الاقوامی سطح پر امریکی امیگریشن پالیسیوں کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر یہ قانون نافذ ہو جاتا ہے تو یہ ایچ-1 بی پروگرام کی پوری تاریخ میں سب سے بڑی مالی رکاوٹ ثابت ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا امریکی انتظامیہ اس تجویز کو برقرار رکھتی ہے یا کاروباری حلقوں کے دباؤ کے پیش نظر اس میں کوئی نرمی لائی جاتی ہے۔ تب تک، ویزا کے منتظر امیدواروں اور کمپنیوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔