LIVE
Loading Breaking News...

اہم معدنیات کی عالمی دوڑ: امریکہ اور یورپ کا تقابل

News Image
امریکہ اہم معدنیات کی سپلائی چین کو چین سے آزاد کروانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ یورپی یونین تاحال فیصلہ سازی اور پیچیدہ انتظامی امور میں الجھی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کی سست روی اسے عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا سکتی ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے لیے ناگزیر سمجھی جانے والی اہم معدنیات کی دوڑ میں امریکہ نے یورپی ممالک کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اور تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن اپنی سپلائی چین کو چین کے زیر اثر علاقوں سے نکالنے کے لیے اربوں ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد بیٹری ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید دفاعی نظام کے لیے درکار معدنی وسائل پر خودمختاری حاصل کرنا ہے۔ امریکہ نہ صرف مقامی کان کنی کے منصوبوں کو فروغ دے رہا ہے بلکہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر متبادل سپلائی چینز بھی تشکیل دے رہا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یورپی حکام پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ اہم فیصلے کرنے میں انتہائی سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق برسلز میں بیٹھی انتظامیہ طویل بحث مباحثے اور پیچیدہ ضابطہ اخلاق کی بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے عملی اقدامات میں تاخیر ہو رہی ہے۔ یورپ میں سرمایہ کاروں کو منصوبوں کی منظوری کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جو اس تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں ایک بڑا نقصان ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یورپ نے اپنی پالیسیوں میں فوری تبدیلی نہ لائی تو وہ مستقبل کی صنعتی ضروریات کے لیے مکمل طور پر بیرونی ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ امریکہ کی تیزی اور یورپ کی سست روی کے درمیان یہ فرق آنے والے برسوں میں عالمی اقتصادی طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ جہاں امریکہ اب ایک ایسے مقام پر ہے جہاں وہ اپنی مقامی صنعت کو تحفظ دے کر اسے ترقی دے رہا ہے، وہیں یورپی کمپنیاں اپنی رقوم اور پروجیکٹس کو محفوظ ماحول نہ ملنے کی وجہ سے امریکہ منتقل کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال یورپی یونین کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج ہے جس کا حل اب صرف حکومتی سطح پر فوری اصلاحات میں ہی مضمر ہے۔