Technology
آتش فشاں اور زیر زمین معدنی ذخائر: ایک نئی تحقیق
سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں موجود فعال آتش فشاں قدرتی طور پر قیمتی دھاتوں کے ذخائر پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ یہ عمل میگما سے نکلنے والے سیال مادوں کے ذریعے ممکن ہوتا ہے جو زمین کی تہوں میں معدنیات جمع کرتے ہیں۔
آتش فشاں عام طور پر تباہی اور خوف کی علامت سمجھے جاتے ہیں، تاہم سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے ان کے ایک حیران کن اور فائدہ مند پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ حالیہ ارضیاتی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں موجود فعال آتش فشاں نہ صرف لاوا اگلتے ہیں بلکہ وہ زمین کی تہہ میں قیمتی دھاتوں کے وسیع ذخائر پیدا کرنے کا قدرتی کارخانہ بھی ثابت ہو رہے ہیں۔ جب آتش فشاں کے اندر میگما گرم ہوتا ہے تو اس سے نکلنے والے خاص قسم کے سیال مادے زمین کی چٹانوں سے گزرتے ہوئے اہم دھاتوں کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں اور پھر انہیں ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔
ماہرین ارضیات کے مطابق، دنیا بھر میں دھاتوں کی زیادہ تر کان کنی انہی علاقوں میں ہوتی ہے جو قدیم یا موجودہ آتش فشاں سرگرمیوں کا مرکز رہے ہیں۔ آتش فشاں کے نچلے حصوں میں میگما سے خارج ہونے والی گیسیں اور گرم پانی کا محلول جب ٹھنڈا ہوتا ہے، تو وہ سونے، تانبے، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں کو چٹانوں کی دراڑوں میں چھوڑ دیتا ہے۔ اس عمل کو 'معدنی کاری' کا نام دیا جاتا ہے، جو ہزاروں سال کے دوران ایک جگہ بہت بڑی مقدار میں دھاتوں کے ذخائر تشکیل دے دیتا ہے، جسے بعد میں انسانی ٹیکنالوجی کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
اگرچہ یہ عمل دیکھنے میں بہت سست ہے، لیکن یہ قدرتی طور پر زمین کو معدنیات سے مالا مال کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ محققین اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان زیر زمین ذخائر کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں دھاتوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔ یہ دریافت کان کنی کی صنعت کے لیے ایک نئی راہ کھول سکتی ہے، جس سے نہ صرف معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ ارضیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ فی الحال، سائنسدان اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ کن مخصوص حالات میں آتش فشاں سب سے زیادہ دھاتیں پیدا کرتے ہیں تاکہ ان علاقوں کی درست نشاندہی کی جا سکے۔