LIVE
Loading Breaking News...

مصنفین گلڈ کی جانب سے اے آئی ٹریننگ ڈیٹا پر شدید تحفظات کا اظہار

News Image
مصنفین گلڈ نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنیوں کی جانب سے بغیر اجازت ڈیٹا کا استعمال کتابوں کی دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ تکنیکی ترقی کے نام پر کاپی رائٹ شدہ مواد کی من مانی نقل تخلیق کاروں کے حقوق کو پامال کر رہی ہے۔
مصنفین گلڈ (Authors Guild) نے حال ہی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنیوں کے طرز عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بغیر کسی اجازت یا معاوضے کے کتابوں کا ڈیٹا اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنا پوری ادبی صنعت کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ گلڈ کا موقف ہے کہ جس طرح اے آئی ماڈلز کو سیکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح تکنیکی کمپنیوں نے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر قانونی اجازت کے کتابوں کے ذخیرے کو اپنے ماڈلز میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ عمل نہ صرف کاپی رائٹ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ لکھاریوں کی محنت کا استحصال بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق، لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) کی مہارت کا انحصار ان کے تربیتی ڈیٹا پر ہوتا ہے، اور کتابیں اس ڈیٹا کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ جب اے آئی کمپنیاں بغیر کسی رکاوٹ کے ان کتابوں کو 'مائن' کرتی ہیں تو وہ دراصل تخلیق کاروں کی روزی روٹی پر حملہ کر رہی ہوتی ہیں۔ مصنفین گلڈ کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مستقبل میں مصنفین کے لیے لکھنا ایک غیر منافع بخش کام بن جائے گا، کیونکہ ان کا مواد مفت میں دستیاب ہوگا اور اے آئی ماڈل ان کی جگہ لے لیں گے۔ یہ صورتحال ادبی تخلیقی صلاحیتوں کو جمود کا شکار کر سکتی ہے اور ایک ایسا ماحولیاتی نظام قائم کر دے گی جہاں اصلی مصنفین کے لیے کوئی جگہ نہیں بچے گی۔ اس مسئلے کا ایک اور تاریک پہلو یہ ہے کہ اے آئی کمپنیاں اکثر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کا ڈیٹا کا استعمال 'فیئر یوز' (Fair Use) کے زمرے میں آتا ہے، تاہم قانون دانوں اور مصنفین کی بڑی تعداد اس سے متفق نہیں ہے۔ گلڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے شفاف عمل اپنائیں اور لکھاریوں کو ان کی تخلیقات کا معاوضہ دیں۔ بغیر کسی ریگولیشن اور پابندی کے اے آئی کی تربیت کا عمل کتابوں کی دنیا کو ایک ایسے دور میں لے جا رہا ہے جہاں انسانی ذہانت کو مشینوں کے لیے خام مال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ آخر میں، یہ بحث اب صرف قانونی چارہ جوئی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک اخلاقی اور معاشی جنگ بن چکی ہے۔ اگر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں شفافیت کو یقینی نہ بنایا گیا تو دنیا بھر کی لائبریریاں اور ناشرین ایک بڑے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مصنفین گلڈ کی جانب سے اٹھائی گئی یہ آواز اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تکنیکی ترقی کو انسانی تخلیقیت کی قیمت پر نہیں بلکہ اسے تحفظ فراہم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔