Business
اے آئی ہیج فنڈ سیچویشنل اویئرنس کے خلاف ایس ای سی کی تحقیقات
امریکی ریگولیٹری ادارے ایس ای سی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ہیج فنڈ 'سیچویشنل اویئرنس' کے قریب الوقوع بحران کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تحقیقات کے دائرہ کار میں وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں سے فنڈز کے تجارتی لین دین اور قرض دہندگان کے ساتھ روابط کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
امریکہ کے سرکاری ریگولیٹری ادارے 'سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن' (ایس ای سی) نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں کام کرنے والے ایک اہم ہیج فنڈ 'سیچویشنل اویئرنس' کے بحران کی تحقیقات کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس ہیج فنڈ کی بنیاد اوپن اے آئی کے سابق محققین نے رکھی تھی، جس نے سرمایہ کاری کی دنیا میں خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ تاہم، اب یہ ادارہ شدید مالی مشکلات اور ممکنہ بدانتظامی کے الزامات کی زد میں ہے جس کے باعث ریگولیٹرز کو حرکت میں آنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق ایس ای سی نے وال اسٹریٹ کے نامور بینکوں کو سب پیناز (عدالتی نوٹس) جاری کیے ہیں تاکہ اس فنڈ کی تجارتی سرگرمیوں، قرض لینے کے طریقہ کار اور قرض دہندگان کے ساتھ ہونے والے مواصلاتی رابطوں کی گہرائی سے جانچ کی جا سکے۔ حکام اس بات کا تعین کرنا چاہتے ہیں کہ آیا سرمایہ کاروں کے ساتھ معلومات کو چھپایا گیا یا تجارتی ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ یہ تحقیقات اس وقت سامنے آئی ہیں جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت سے منسلک ٹیکنالوجی اور مالیاتی ماڈلز پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ ہیج فنڈ کی ناکامی کے قریب پہنچنے کے اس واقعے نے سرمایہ کاروں کے حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ کیا اے آئی الگورتھمز پر مبنی مالیاتی فیصلے واقعی محفوظ ہیں۔ ایس ای سی کا ماننا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات ضروری ہے تاکہ وال اسٹریٹ کے مالیاتی نظام میں موجود ممکنہ خطرات کو سمجھا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ہیج فنڈ نے اپنی حکمت عملیوں میں جو اے آئی ماڈل استعمال کیے، ان میں متوقع نتائج نہ ملنے کی وجہ سے فنڈ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اس کا ڈھانچہ گرنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ فی الحال، ایس ای سی کی ٹیمیں بینکوں سے حاصل ہونے والے ریکارڈز کا تجزیہ کر رہی ہیں۔ اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے حامل مالیاتی اداروں کے لیے سخت ریگولیٹری قواعد و ضوابط کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کار اس پیش رفت کو اے آئی پر مبنی مالیاتی ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دے رہے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کمپنیوں کو مزید شفافیت اپنانا ہوگی۔