Pakistan
بلوچستان کی صورتحال اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ بلوچستان کی خراب صورتحال کا جان بوجھ کر تاثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
ترجمان پاک فوج اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بلوچستان کے اندر حالات تیزی سے ابتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس ملک بالخصوص بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دیے۔ بریفنگ کے آغاز میں انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے دوران اب تک مجموعی طور پر چالیس ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن میں پولیس، سول آرمڈ فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور مسلح افواج شامل ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے جہاں اکیس ہزار سے زائد کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں اس سال تین ہزار سے زائد دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے جن میں سے سب سے زیادہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں تصدیق شدہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جس سے یومیہ ہلاکتوں کا تناسب ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر بلند رہا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہی ہیں تاکہ فتنہ الخوارج اور دیگر عناصر کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کائنیٹک کارروائیاں انتہائی مؤثر انداز میں جاری ہیں اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو انجام تک پہنچایا جا رہا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان کی مبینہ طور پر خراب ہوتی ہوئی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کا سیکیورٹی ماحول اس کے دائرے میں آتا ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل پانچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور شہریوں کے درمیان آئینی تعلقات واضح ہیں، جہاں حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کی ادائیگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی پالیسی میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کسی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔