LIVE
Loading Breaking News...

سوئمنگ پول میں پیشاب کا انکشاف: سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

News Image
کینیڈا کے محققین نے مصنوعی مٹھاس کا استعمال کرتے ہوئے سوئمنگ پول کے پانی میں موجود انسانی پیشاب کی مقدار کا اندازہ لگانے کے لیے ایک نئی تکنیک وضع کی ہے۔ یہ تحقیق عوامی مقامات پر حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری پر سوالات اٹھاتی ہے۔
ایک دلچسپ سائنسی تحقیق میں کینیڈا کے محققین نے سوئمنگ پولز کے پانی میں انسانی پیشاب کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے ایک جدید طریقہ کار متعارف کروایا ہے۔ یہ تحقیق انوائرمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لیٹرز میں شائع ہوئی تھی، جس میں ماہرین نے عوامی مقامات پر موجود تالابوں اور ہاٹ ٹبز کے پانی میں پیشاب کی مقدار کو ناپنے کے لیے مصنوعی مٹھاس یعنی ایسسلفیم پوٹاشیم (ACE) کو بطور مارکر استعمال کیا۔ تحقیق کے مطابق انسانی جسم مصنوعی مٹھاس کو ہضم نہیں کر پاتا اور اسے پیشاب کے ذریعے خارج کر دیتا ہے، جس سے اس کی مقدار کو پانی میں ٹیسٹ کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے مختلف عوامی پولز کے نمونے اکٹھے کیے اور ان میں مصنوعی مٹھاس کی ارتکاز کی سطح کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ نتائج سے یہ انکشاف ہوا کہ عوامی سطح پر استعمال ہونے والے بہت سے سوئمنگ پولز میں پیشاب کی ایک قابل ذکر مقدار شامل ہوتی ہے جو کہ حفظان صحت کے اصولوں کے منافی ہے۔ ٹیم نے اپنی تحقیق میں مختلف پولز سے حاصل کردہ ڈیٹا کا موازنہ کیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ تالابوں میں پانی کی صفائی کے باوجود پیشاب کے اجزاء مسلسل پائے جاتے ہیں، جو پول استعمال کرنے والوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مطالعہ محض ایک تجربہ نہیں بلکہ عوامی صحت کے حوالے سے ایک اہم انتباہ ہے۔ اگرچہ تالابوں میں کلورین کا استعمال جراثیم کشی کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن پیشاب کی موجودگی سے پانی میں موجود دیگر کیمیکلز کے ساتھ ردعمل پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ لوگوں کو عوامی سوئمنگ پول استعمال کرتے وقت ذاتی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے اور پول انتظامیہ کو پانی کی کوالٹی کو مسلسل مانیٹر کرنے کے لیے جدید سائنسی آلات کا استعمال کرنا چاہیے۔ آخر میں، اس تحقیق کا مقصد کسی کو شرمندہ کرنا نہیں بلکہ عوامی آگاہی پیدا کرنا ہے کہ ہم کس طرح غیر ارادی طور پر عوامی مقامات کی آلودگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے تجویز دی ہے کہ پول کے مالکان کو پانی کی ری سائیکلنگ اور فلٹریشن کے عمل کو مزید بہتر بنانا چاہیے تاکہ بیکٹیریا اور دیگر غیر ضروری اجزاء کو کامیابی سے ختم کیا جا سکے۔ یہ تحقیق آج بھی سائنسی حلقوں میں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ حفظان صحت کے توازن کو برقرار رکھنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔