LIVE
Loading Breaking News...

کین پیکسٹن کا اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف سخت موقف

News Image
ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے سینیٹ کی انتخابی مہم کے دوران مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا چار نکاتی منصوبہ مقامی وسائل کے تحفظ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر سخت ضوابط لاگو کرنے پر مبنی ہے۔
ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن، جو طویل عرصے سے مختلف تنازعات کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اب اپنی سینیٹ کی انتخابی مہم کے دوران ایک نئے محاذ پر سرگرم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک اہم پالیسی بیان جاری کیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کو محدود کرنے اور ان پر سخت نگرانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کی نئی سمت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ریاست ٹیکساس میں بڑھتے ہوئے انرجی بحران اور پانی کے ضیاع جیسے مسائل کو بھی ہوا دیتا ہے۔ کین پیکسٹن کی جانب سے پیش کردہ چار نکاتی منصوبے کا بنیادی مقصد ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے عمل کو شفاف بنانا ہے جو ریاست کے بجلی کے نظام پر بھاری بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ٹیکساس کے وسائل کو بڑی تیزی سے استعمال کر رہی ہیں، جبکہ مقامی شہریوں کو ان کے منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پیکسٹن کا یہ موقف ان کے ووٹرز میں مقبولیت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے جو بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور گرڈ کے غیر مستحکم ہونے سے پریشان ہیں۔ ماہرین کے مطابق پیکسٹن کا یہ بیانیہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ بھر میں ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی اثرات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ اگرچہ وہ خود کو ریپبلکن پارٹی کے ایک قدامت پسند رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن اے آئی انڈسٹری پر تنقید کا یہ نیا رخ انہیں اپنی پارٹی کے دیگر امیدواروں سے الگ کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ وہ ان کمپنیوں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ریاست کے انفراسٹرکچر کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس پیش رفت کے بعد ٹیکنالوجی سیکٹر اور سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا پیکسٹن کا یہ منصوبہ صرف سیاسی نعرہ بازی ہے یا وہ واقعی سینیٹ میں منتخب ہو کر ان کمپنیوں کے خلاف قانون سازی کریں گے۔ بلاشبہ، یہ پالیسی شفٹ ان کی انتخابی مہم میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ کے خلاف عوامی ناراضگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کین پیکسٹن کا یہ نیا عزم اب ووٹرز کے لیے بھی ایک اہم سوال بن چکا ہے کہ آیا وہ کارپوریٹ طاقت کے سامنے رکاوٹ کھڑی کر پائیں گے۔