LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک پر بچوں کے ڈیٹا پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر برازیل کا بڑا ایکشن

News Image
برازیل کے حکام نے ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس پر بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر ٹیک کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال کو روکنا ہے۔
برازیل کے حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کی مالک کمپنی 'بائٹ ڈانس' کے خلاف ایک بڑا ایکشن لیتے ہوئے اسے 30 ملین ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ کارروائی بچوں کے ڈیٹا کی پرائیویسی سے متعلق سخت قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر کی گئی ہے۔ برازیل کے ریگولیٹرز کا ماننا ہے کہ ٹک ٹاک نے اپنی پلیٹ فارم پر موجود نابالغ صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے ناکافی انتظامات کیے، جس کی وجہ سے بچوں کی نجی معلومات کے غلط استعمال کے خدشات پیدا ہوئے۔ اس عدالتی اور انتظامی فیصلے میں بائٹ ڈانس کو یہ واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ تمام غیر قانونی طور پر حاصل کردہ ڈیٹا کو فوری طور پر اپنے سرورز سے حذف کرے۔ برازیل حکومت نے اس معاملے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صارف کے حقوق، خاص طور پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کو اپنی ترجیح بنائیں۔ یہ جرمانہ عالمی سطح پر جاری اس بحث کا ایک حصہ ہے جس میں بڑے ٹیک پلیٹ فارمز کو صارفین کی رازداری کے حوالے سے جوابدہ ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ٹک ٹاک کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دنیا بھر کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔ برازیل جیسے اہم مارکیٹ میں اس قسم کی کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب حکومتیں سوشل میڈیا کمپنیوں کی من مانیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے برازیل حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ دیگر ممالک کو بھی اسی طرح کے سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ مستقبل قریب میں یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ بائٹ ڈانس اس جرمانے کو چیلنج کرتی ہے یا برازیل کے قوانین کے مطابق اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں لاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا پرائیویسی کے قوانین اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکے ہیں اور کسی بھی پلیٹ فارم کے لیے بچوں کے ڈیٹا کا غیر قانونی استعمال اب مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں پرائیویسی کا تحفظ ایک بنیادی انسانی حق ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔