LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ٹیکنالوجی حصص میں گراوٹ کی بڑی وجوہات

News Image
وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی سیکٹر کے حصص میں نمایاں کمی کے باعث ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب اینویڈیا کی جانب سے متوقع آمدنی کے اعلانات پر مرکوز ہیں جو مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔
وال اسٹریٹ پر منگل کے روز سرمایہ کاروں میں بے چینی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس گراوٹ کا شکار ہو گئے۔ مارکیٹ کے اس منفی رجحان کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں فروخت کا دباؤ ہے، جو خاص طور پر دنیا کی معروف چپ بنانے والی کمپنی اینویڈیا (Nvidia) کی سہ ماہی آمدنی کے اعلانات سے قبل دیکھا گیا۔ سرمایہ کار اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا اینویڈیا اپنی گزشتہ کارکردگی کو برقرار رکھ پائے گی یا اس کے مالیاتی نتائج مارکیٹ کی موجودہ بلندیوں کو مزید تقویت دیں گے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس حالیہ گراوٹ کو مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ٹیکنالوجی اسٹاکس جغرافیائی تناؤ اور عالمی سطح پر ریگولیٹری جانچ پڑتال کے حوالے سے انتہائی حساس ہو چکے ہیں۔ جب بھی عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے، ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی سپلائی چین اور منافع کے حوالے سے خطرات محسوس کرتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے مارکیٹ کے شرکاء فی الحال محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں، مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری تیزی کے باوجود، مارکیٹ اب بنیادی مالیاتی حقائق کی طرف واپس آ رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران ٹیکنالوجی اسٹاکس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے مارکیٹ کو اوور ویلیوڈ (Overvalued) بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے اب منافع کمانے کے لیے شیئرز کی فروخت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اینویڈیا کے نتائج نہ صرف اس کمپنی کے لیے بلکہ پورے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے لیے ایک ٹیسٹ ثابت ہوں گے کیونکہ یہ کمپنی اے آئی انقلاب کا مرکزی نقطہ سمجھی جاتی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اینویڈیا کی آمدنی توقعات کے مطابق یا اس سے بہتر رہتی ہے تو مارکیٹ میں دوبارہ بحالی کی امید کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اگر نتائج توقعات سے کم رہے تو ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید گراوٹ کا خدشہ موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے اپنے پورٹ فولیو کو متوازن رکھیں اور قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے بجائے بنیادی مالیاتی اشاریوں پر زیادہ توجہ دیں۔