LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ویزا منسوخی: ہزاروں درخواست دہندگان غیر یقینی صورتحال کا شکار

News Image
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے غیر تارکین وطن ویزا اپائنٹمنٹس کی اچانک منسوخی نے دنیا بھر میں درخواست دہندگان میں کھلبلی مچا دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتظامی تبدیلیوں اور پالیسیوں کے نئے جائزے کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
امریکہ میں غیر تارکین وطن ویزا اپائنٹمنٹس کی بڑے پیمانے پر اچانک منسوخی نے دنیا بھر کے ان ہزاروں افراد میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے جنہوں نے طویل انتظار کے بعد اپنی انٹرویو کی تاریخیں حاصل کی تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اطلاعات کے مطابق، یہ منسوخیاں انتظامی امور اور نئی پالیسیوں کے نفاذ کے عمل کا حصہ ہیں، تاہم ان فیصلوں کی شفافیت پر کئی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اس اقدام کی واضح وجوہات نہیں بتائی گئیں، جس سے ان کے سفر اور مستقبل کے منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ صورتحال خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ویزا پالیسیوں میں ممکنہ سخت تر تبدیلیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ اپنی امیگریشن پالیسیوں میں وسیع تر تبدیلیاں کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت نہ صرف نئے ویزا درخواست دہندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ پہلے سے جاری کردہ ویزوں کے جائزے کا عمل بھی تیز کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پناہ کے متلاشی افراد کے لیے بھی ویزا منسوخی اور درخواستوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں سختیاں متوقع ہیں، جس سے لاکھوں افراد کے امریکہ پہنچنے کے خواب بکھرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب مالیاتی اور سفارتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ ویزا منسوخی محض ایک عارضی تکنیکی مسئلہ ہے یا یہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی شروعات ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ملکی سلامتی اور امیگریشن کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے یہ ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم، ان اقدامات کے معاشی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ طلباء، کاروباری افراد اور سیاح بڑی تعداد میں امریکہ کا رخ کرتے ہیں جن کے ویزے منسوخ ہونے سے تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ نئی انتظامیہ ویزا پالیسی کو کس سمت لے کر جاتی ہے اور کیا یہ منسوخیاں صرف ایک محدود مدت تک جاری رہیں گی یا مستقل پالیسی کا حصہ بنیں گی۔