World
چین میں طلباء کا نشہ آور ادویات کا استعمال: ایک سماجی بحران
چین میں تعلیمی دباؤ اور ناکامی کے خوف سے تنگ آکر نوجوان طبقہ نشہ آور ادویات کی جانب مائل ہو رہا ہے۔ ماہرین نے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو ذہنی صحت کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
چین میں نوجوان نسل کے درمیان نشہ آور ادویات کا بڑھتا ہوا رجحان ایک نئے اور خطرناک سماجی بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس اور ماہرین کی تحقیقات کے مطابق، چینی طلبا تعلیمی میدان میں ناکامی کے خوف اور سخت مسابقت کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس دباؤ سے چھٹکارا پانے اور حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لیے، بہت سے نوجوان اب ڈاکٹروں کے نسخے کے بغیر یا غلط طریقے سے حاصل کردہ ادویات کا رخ کر رہے ہیں، جو ان کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ ایک نوجوان نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی اداروں میں کامیابی کے حصول کے لیے جس قدر شدید دباؤ ڈالا جاتا ہے، اس نے طلباء کو اس تباہ کن راستے پر چلنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ چینی معاشرے میں کامیابی کا پیمانہ صرف تعلیمی کارکردگی کو قرار دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے طلبا خود کو ہر وقت ایک شدید دباؤ میں محسوس کرتے ہیں۔ جب یہ طلبا اپنی توقعات کے مطابق نتائج حاصل نہیں کر پاتے، تو وہ مایوسی اور ذہنی کوفت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نشہ آور ادویات کا استعمال، خاص طور پر وہ ادویات جو دماغ کو سن کر دیتی ہیں، ان کے لیے ایک عارضی سہارا بن گئی ہیں جس کے ذریعے وہ اپنی پریشانیوں کو وقتی طور پر بھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، یہ عمل نہ صرف ان کی تعلیمی کارکردگی کو مزید متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی طویل مدتی صحت اور اعصابی نظام کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔
اس صورتحال نے والدین اور تعلیمی ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ چین کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ بچوں پر ضرورت سے زیادہ بوجھ کم کیا جا سکے اور انہیں مقابلہ بازی کی دوڑ سے باہر نکال کر ان کی ذہنی صحت پر توجہ دی جائے۔ حکومتی سطح پر بھی اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ادویات کی خرید و فروخت پر سخت نگرانی کی جائے اور تعلیمی اداروں میں کونسلنگ کا موثر نظام متعارف کروایا جائے تاکہ نوجوانوں کو اس خطرناک لت سے دور رکھا جا سکے۔ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا، تو آنے والے وقت میں چین کو ایک بڑی ذہنی صحت کی وبا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔