World
سپین کے علاقے سیوطہ کی سرحد پر مہاجرین کا ہنگامہ اور کشیدہ صورتحال
سپین کے ہسپانوی انکلیو سیوطہ کے قریب مراکش کے شہر فنیدق میں ہزاروں مہاجرین جمع ہو گئے جہاں انہوں نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ ہسپانوی میڈیا کے مطابق حالیہ لہر میں ہزاروں افراد نے سیوطہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جبکہ سکیورٹی فورسز نے سخت پہرے کے ذریعے بیشتر کوششیں ناکام بنا دیں۔
سپین کے شمالی افریقہ میں واقع خود مختار علاقے سیوطہ کی سرحد کے قریب رات بھر شدید کشیدہ صورتحال برقرار رہی جہاں ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن مراکش کے شہر فنیدق میں جمع ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد سرحد پار کرنے کی کوشش میں مصروف رہی۔ ہسپانوی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق جمعرات کے روز دو سے تین ہزار کے قریب افراد نے سیوطہ میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی، جن میں سے بیشتر افراد نے دوپہر سے پہلے ہی سرحد عبور کر لی تھی۔ سیوطہ اور ملیلہ یورپ کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں ہیں جہاں روزگار کی تلاش میں یورپ جانے کے خواہشمند افراد اکثر اس طرح کی کوششیں کرتے ہیں۔ مراکشی حکام نے سرحد پر واٹر کینن کا استعمال کیا اور سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی تاکہ ہجوم کو روکا جا سکے، اس دوران ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں سڑکوں پر کھڑی کئی گاڑیوں اور ایک بس کو نذر آتش کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق فنیدق کی سڑکوں پر جلی ہوئی گاڑیوں کے ڈھانچے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ علاقے میں بدستور افرا تفری کا عالم رہا۔ سرحدی دروازے بند ہونے کے بعد بھی مہاجرین نے ہمت نہیں ہاری اور ساحلی راستوں کے ذریعے سیوطہ میں داخل ہونے کے متبادل راستے تلاش کرتے رہے۔ کچھ افراد نے سمندر کے راستے تیر کر سرحد پار کرنے کی کوشش کی جبکہ خواتین اور بچوں سمیت متعدد خاندان پہاڑی راستوں اور شاہراہوں پر پیدل سفر کرتے ہوئے نظر آئے۔ سکیورٹی فورسز نے رات بھر مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور لوگوں کو سرحد کے قریب جانے سے روکا، جس کی وجہ سے کئی مقامات پر بھگدڑ بھی مچی۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران بعض افراد نے خوف و ہراس کے مناظر بیان کیے اور بتایا کہ شدید ہجوم کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ دوسری جانب سپین کی حکومت یورپی ممالک میں تارکین وطن کے حوالے سے نسبتاً نرم پالیسی رکھتی ہے اور حال ہی میں اس نے ہزاروں غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اس سرحدی علاقے میں لوگوں کی آمد میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔