Technology
ویرا روبن اے آئی سسٹم: خلا میں مصنوعی ذہانت کا نیا انقلاب
اسپیس ایکس اور اینویڈیا نے مشترکہ طور پر خلا کے لیے موزوں ویرا روبن NVL72 سسٹم ڈیزائن کیا ہے جو 2027 کی آخری سہ ماہی میں مدار میں بھیجا جائے گا۔ یہ جدید نظام روایتی ریک کے مقابلے میں زیادہ ہلکا، کم خرچ اور زیادہ کثافت والا ہے جس سے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو خلا میں فروغ ملے گا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے، اسپیس ایکس نے معروف چپ بنانے والی کمپنی اینویڈیا (Nvidia) کے ساتھ اشتراک کر کے ایک جدید ترین 'ویرا روبن' (Vera Rubin) NVL72 سسٹم تیار کیا ہے جسے خاص طور پر خلا میں استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ انقلابی منصوبہ 2027 کی چوتھی سہ ماہی میں مدار میں لانچ کرنے کے لیے طے کیا گیا ہے، جبکہ 2028 میں اس کے پیمانے میں وسیع تر اضافہ متوقع ہے۔ یہ پیش رفت خلائی مشنز میں مصنوعی ذہانت (AI) کی شمولیت کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوگی۔
اس نئے سسٹم کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی ساخت میں سادگی اور کارکردگی ہے۔ انجینئرز نے اسے روایتی سرور ریک کے مقابلے میں کافی حد تک تبدیل کیا ہے، جس سے یہ وزن میں بہت ہلکا اور حجم میں پہلے سے کہیں زیادہ گنجان ہو گیا ہے۔ کم وزن ہونے کے باوجود اس کی کمپیوٹنگ صلاحیت انتہائی طاقتور ہے، جو خلائی ماحول کے سخت تقاضوں کو پورا کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔ اس کی تیاری میں لاگت کو بھی خاص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ اسے مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے پائیدار اور قابل عمل بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، خلا میں اس قسم کے جدید اے آئی سسٹم کی تنصیب سے سیٹلائٹ ڈیٹا کی پروسیسنگ اور خلائی تحقیق میں تیزی آئے گی۔ زمین پر موجود ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں، خلا میں کمپیوٹنگ کرنے سے سگنل کے سفر میں تاخیر کم ہوگی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ سسٹم نہ صرف اسپیس ایکس کے اپنے مشنز بلکہ دیگر خلائی ایجنسیوں اور کمپنیوں کے لیے بھی تحقیق اور ڈیٹا مینجمنٹ کے نئے دروازے کھولے گا۔ اینویڈیا کی جدید جی پی یو ٹیکنالوجی اور اسپیس ایکس کی لانچ صلاحیتوں کا یہ امتزاج خلائی صنعت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
منصوبے کے اگلے مراحل میں، 2028 تک اس سسٹم کی مزید تنصیبات پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جس سے خلا میں اے آئی انفراسٹرکچر کا ایک مربوط نیٹ ورک قائم ہو سکے گا۔ اس اقدام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اب زمین تک محدود رہنے کے بجائے خلا کو اپنے کمپیوٹنگ نیٹ ورک کا حصہ بنانے کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہ کامیابی آنے والے وقتوں میں خلائی سیاحت اور گہری خلائی ریسرچ کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔