LIVE
Loading Breaking News...

باکولڈ میں چینی کی فصلوں کا تحفظ: محکمہ زراعت کی نئی حکمت عملی

News Image
باکولڈ میں محکمہ زراعت اور شوگر ریگولیٹری اتھارٹی نے ریڈ سٹرائپڈ سافٹ سکیل کیڑوں کے خاتمے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اس مہم میں جدید ڈرونز اور حیاتیاتی کنٹرول کے طریقہ کار کے ذریعے چینی کی فصلوں کو بچانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
باکولڈ سٹی میں محکمہ زراعت اور شوگر ریگولیٹری اتھارٹی نے چینی کی فصل کو شدید نقصان پہنچانے والے کیڑے 'ریڈ سٹرائپڈ سافٹ سکیل' (RSSI) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک جامع اور ہنگامی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیڑا گنے کی فصل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے کسانوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے فضائی نگرانی اور کیمیکل سپرے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت کھیتوں میں ڈرونز کے ذریعے کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے تاکہ دور دراز اور بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی فصلوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت نے حیاتیاتی کنٹرول کے طریقوں کو بھی فروغ دیا ہے تاکہ ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر ان کیڑوں کی افزائش کو روکا جا سکے۔ حکام نے متاثرہ کاشتکاروں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مالی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ وہ اپنی فصلوں کو اس افتاد سے محفوظ رکھ سکیں۔ ایک اہم پیش رفت کے طور پر محکمہ زراعت نے گنے کی نئی اور جدید اقسام متعارف کرائی ہیں جو نہ صرف زیادہ پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ ان کیڑوں کے خلاف قدرتی مدافعت بھی رکھتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان نئی اقسام کو وسیع پیمانے پر کاشت کیا جائے تو مستقبل میں چینی کی صنعت کو ان آفات سے کافی حد تک بچایا جا سکے گا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ملک میں چینی کی سپلائی چین کو مستحکم رکھا جائے اور کسانوں کی آمدنی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور انہیں ہر ممکن تکنیکی معاونت فراہم کریں۔ اس کے علاوہ، کاشتکاروں کو اس حوالے سے تربیت بھی دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے کھیتوں میں ابتدائی علامات کو کیسے پہچانیں اور بروقت اقدامات اٹھائیں۔ محکمہ زراعت پر امید ہے کہ ان مربوط کوششوں کے نتیجے میں چینی کی پیداوار میں ہونے والی کمی پر جلد قابو پا لیا جائے گا اور علاقے کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کیا جا سکے گا۔