LIVE
Loading Breaking News...

ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ اور ایپل کی پالیسیوں پر بحث

News Image
یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ (DMA) کا مقصد ٹیک کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر کے مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ تاہم، ایپل کی جانب سے ویب لنکس پر 15 فیصد کمیشن لاگو کرنے پر ماہرین اور ڈویلپرز کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
یورپی یونین کا ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ (DMA) طویل عرصے سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑے انقلابی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد ٹیک کمپنیوں کی من مانی اور اجارہ داری کو ختم کر کے مارکیٹ میں صحت مند مسابقت کو فروغ دینا، صارفین کو انتخاب کی آزادی دینا اور ایپ ڈویلپرز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا تھا۔ تاہم، حال ہی میں یورپی کمیشن کی جانب سے ایپل کے کچھ اقدامات کو منظوری دیے جانے کے بعد ماہرینِ ٹیکنالوجی میں سخت تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدامات ایکٹ کے روح کے برعکس ہیں۔ تنازعہ کی اصل وجہ ایپل کا وہ نیا فیصلہ ہے جس کے تحت کمپنی ویب لنکس پر 15 فیصد تک کمیشن وصول کر رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈی ایم اے کا مقصد درحقیقت ڈویلپرز کو ان رکاوٹوں سے نجات دلانا تھا جو انہیں براہ راست صارفین تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ جب یورپی کمیشن نے ایپل کے اس ماڈل کو ڈی ایم اے کے مطابق قرار دیا، تو کئی حلقوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا۔ ڈویلپرز کا ماننا ہے کہ اگر ایپل اپنی ویب سائٹس اور لنکس کے ذریعے بھی بھاری کمیشن وصول کرتا رہے گا تو چھوٹی کمپنیوں کے لیے مارکیٹ میں جگہ بنانا ناممکن ہو جائے گا۔ ایپل کی یہ پالیسی اس وقت بھی کافی بحث کا مرکز رہی ہے کیونکہ کمپنی اسے اپنی سیکیورٹی اور پرائیویسی پالیسیوں کا حصہ قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف ریگولیٹرز اس کشمکش میں ہیں کہ آیا وہ ایپل پر مزید سختی کریں یا اسے مارکیٹ کے اصولوں کے تحت کام کرنے کی آزادی دیں۔ یورپی کمیشن کا مؤقف ہے کہ وہ مرحلہ وار بہتری لا رہے ہیں لیکن ناقدین اسے ایک بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈی ایم اے کا مقصد واقعی مسابقت کو فروغ دینا ہے، تو ایپل جیسے ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں کو ایسے 'پراکسی' چارجز لگانے سے روکنا ہوگا۔ آخر کار یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ڈی ایم اے اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا؟ آنے والے مہینوں میں مزید ٹیک کمپنیاں اس قانون کے دائرہ کار میں آئیں گی اور ان کے ردعمل سے ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا یورپی یونین واقعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں اجارہ داری کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گی یا یہ قانون محض کاغذوں تک محدود رہے گا۔ ڈویلپرز اور صارفین فی الحال ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور سب کی نظریں یورپی کمیشن کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔