LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا غزہ میں حماس کے ہتھیار پھینکنے کے معاہدے کا اعلان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران غزہ میں حماس کے مکمل تخفیفِ اسلحہ کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم، حماس کے عہدیداروں نے اسے ایک مسودہ قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے اس حوالے سے شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ قاہرہ میں ثالثوں اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کے مرحلہ وار تخفیفِ اسلحہ کا ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کی جانب ایک انتہائی اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اس سمجھوتے کے تحت غزہ میں ایک نئی فلسطینی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی جو امن بورڈ کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرے گی تاکہ اس علاقے کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔دوسری جانب، اس اعلان کے بعد صورتحال کافی پیچیدہ دکھائی دیتی ہے کیونکہ حماس کے ایک ذمے دار ذریعے نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اس دستاویز کو فی الحال حتمی معاہدے کے بجائے ایک مسودہ سمجھا جانا چاہیے۔ حماس کے مذاکراتی ٹیم کے رکن غازی حمد نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ جب تک اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی سے مکمل طور پر انخلا نہیں کرلتیں، اس وقت تک ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ادھر واشنگٹن میں موجود امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اگرچہ انہیں اس معاہدے پر عمل درآمد کی توقع ہے، تاہم اسرائیل اس بات پر شدید شک میں مبتلا ہے کہ حماس واقعی اپنے ہتھیار حوالے کرے گی۔اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس نئی پیشرفت پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا، لیکن اس سے قبل وہ سخت مطالبات پیش کرتے رہے ہیں جن میں غزہ کی مکمل غیر عسکریائزیشن کو کسی بھی عمل کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ مجوزہ امن منصوبے کے تحت بھاری ہتھیاروں کو ایک فلسطینی انتظامیہ کی تحویل میں رکھنے اور سرنگوں کے خاتمے کی تجاویز شامل ہیں، تاہم ہلکے ہتھیاروں اور سیکورٹی فورسز کے انتظامات کے حوالے سے اب بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ دریں اثنا، غزہ میں زمینی حقائق بدستور کشیدہ ہیں اور اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں جن میں مزید فلسطینی شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار فریقین کے مابین باہمی اعتماد اور جنگ بندی کے سخت نفاذ پر ہوگا، بصورت دیگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔