LIVE
Loading Breaking News...

ہارلیم فلاحی تنظیم تنازعہ: کروڑوں ڈالر کے فنڈز کا ضیاع اور بورڈ کی کارکردگی پر سوالات

News Image
ہارلیم میں ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کروڑوں ڈالر ضائع کرنے اور نااہلی پر مقامی غیر منافع بخش تنظیم کے بورڈ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث تنظیم کے معاملات شدید بحران کی زد میں آ چکے ہیں۔
نیویارک کے علاقے ہارلیم میں سرگرم ایک معروف غیر منافع بخش تنظیم 'ویسٹ ہارلیم ڈویلپمنٹ کارپوریشن' (WHDC) اس وقت شدید بحران اور تنازعات کی زد میں ہے، جہاں تنظیم کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر کروڑوں ڈالر کے فنڈز ضائع کرنے اور انتظامی نااہلی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ تنظیم علاقے کی ترقی اور سماجی بہبود کے لیے قائم کی گئی تھی، لیکن اب اس پر الزام ہے کہ عوامی فلاح کے لیے مختص خطیر رقم کو غیر ضروری منصوبوں اور بدانتظامی کی نذر کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع اور تنظیم سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ادارے کے معاملات پٹری سے اتر چکے ہیں اور بورڈ کی جانب سے احتساب کا کوئی واضح نظام موجود نہیں ہے۔ تنظیم کے اندرونی ذرائع کے مطابق، بورڈ کے ارکان اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، جس کے باعث فنڈز کا صحیح استعمال یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ ایک ایسے وقت میں جب ہارلیم کے رہائشیوں کو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کی سخت ضرورت تھی، کروڑوں ڈالر کی یہ رقم مبینہ طور پر غیر شفاف طریقے سے خرچ کر دی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم جس مقصد کے لیے بنائی گئی تھی، وہ مقصد اب پسِ پشت چلا گیا ہے اور بورڈ کے اراکین اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی برادری میں سخت غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور لوگ اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ تنظیم کے مالیاتی امور کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔ اس معاملے پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ WHDC کی قیادت میں فوری تبدیلیاں کی جائیں۔ اگرچہ تنظیم کی جانب سے ابتدائی طور پر ان الزامات پر کوئی جامع ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اندرونی ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ادارے کے اندر ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بے ضابطگی کو فوری طور پر نہیں روکا گیا تو نہ صرف ادارے کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ ہارلیم کے عوام کا فلاحی تنظیموں پر موجود اعتماد بھی بری طرح مجروح ہو گا۔ مستقبل قریب میں اس معاملے پر قانونی کارروائی یا کسی بیرونی آڈٹ کا امکان بھی خارج از امکان نہیں ہے۔