LIVE
Loading Breaking News...

اسٹاک مارکیٹ اور بانڈز: سرمایہ کاروں کے لیے جم کریمر کا مشورہ

News Image
مشہور مالیاتی تجزیہ کار جم کریمر نے سرمایہ کاروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے دوران بانڈ مارکیٹ کے دباؤ کو نظر انداز نہ کریں۔ مہنگائی اور کارپوریٹ قرضوں میں اضافہ طویل مدتی شرح سود کو بلند سطح پر رکھے ہوئے ہے جو براہ راست اسٹاکس کو متاثر کر رہا ہے۔
مشہور امریکی مالیاتی تجزیہ کار اور سی این بی سی کے میزبان جم کریمر نے حال ہی میں سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں بانڈ مارکیٹ کی حرکیات کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کریمر کے مطابق، طویل مدتی بانڈ ریٹس میں ہونے والا حالیہ اضافہ اسٹاک مارکیٹ پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بازار میں مسلسل مہنگائی اور کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے قرضوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے مالیاتی منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ جم کریمر نے نشاندہی کی کہ جب طویل مدتی بانڈز پر منافع کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ اسٹاکس کے لیے پرکشش نہیں رہتا۔ سرمایہ کار اکثر محفوظ سمجھے جانے والے بانڈز کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں جس سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا بہاؤ کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ قرضوں میں تیزی سے اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کمپنیاں بلند شرح سود پر بھی قرض لینے پر مجبور ہیں، جو کہ مستقبل میں ان کے منافع کے مارجن کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اب صرف ماضی کی کامیابیوں پر انحصار نہ کریں۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھنا اب سرمایہ کاری کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ جم کریمر نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے ٹھوس معاشی حقائق کی روشنی میں فیصلے کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بانڈ مارکیٹ کا دباؤ براہ راست اسٹاکس کی قدر میں کمی کا باعث بن سکتا ہے، لہذا اپنے پورٹ فولیو کو متنوع (Diversify) کرنا اور غیر ضروری خطرات سے بچنا ہی واحد راستہ ہے۔ آخر میں، مارکیٹ کی موجودہ بے یقینی کے ماحول میں جم کریمر کا یہ مشورہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ سرمایہ کاروں کو صرف مختصر مدت کے منافع کے بجائے طویل مدتی میکرو اکنامک رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک مہنگائی قابو میں نہیں آتی اور طویل مدتی شرح سود میں استحکام نہیں آتا، اس وقت تک اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کو ان عالمی مالیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔