World
ریاض کا بحیرہ احمر کے لیے کثیر القومی میری ٹائم اتحاد کا اعلان
سعودی عرب نے بحیرہ احمر اور خطے میں توانائی کی سپلائی لائنوں کے تحفظ کے لیے ایک کثیر القومی میری ٹائم دفاعی اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے خطے کے مختلف ممالک میں حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
ریاض نے جمعرات کے روز ایک کثیر القومی میری ٹائم دفاعی اتحاد بنانے کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس کا مقصد بحیرہ احمر کے خطے میں بحری جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی کے اہم راستوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے نئے محاذ کھلنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی اور سعودی فورسز نے عراقی علاقوں میں ایران کے حامی گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور ایرانی فورسز نے بھی اردن، کویت اور بحرین میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق اس اہم اجلاس میں دنیا بھر کے 43 ممالک کے چیفس آف سٹاف اور نمائندوں نے شرکت کی جبکہ سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور مرکزی ملک ہوگا اور اس کا مستقل ہیڈ کوارٹر بھی یہیں قائم کیا جائے گا۔
اس نئے میری ٹائم اتحاد کا مقصد بحری سیکیورٹی کو مضبوط بنانا، جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کے خطوط کا دفاع کرنا اور آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں مشترکہ بحری مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اجلاس میں شریک چودہ ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اس اتحاد کی بنیاد اور مقاصد کی بھرپور حمایت کی گئی ہے۔ اس بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں میزبان سعودی عرب کے علاوہ کویت، بحرین، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائیجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔ شرکاء نے اجلاس کے دوران عالمی سپلائی چین اور معیشت کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور عزم ظاہر کیا کہ وہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
ادھر خطے میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے تحت پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے رابطہ کیا اور بحیرہ احمر سمیت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطین اور بالخصوص مشرقی بیت المقدس کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اردن کی جانب سے عرب اور اسلامی ممالک کا اجلاس بلانے کی تجویز کا بھی خیرمقدم کیا۔ دوسری جانب مصر کی بندرگاہ دمیاط پر ایک نامعلوم ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے کے واقعے کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع ایک خطرناک اور سنگین اضافے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی اور حملوں کے تناظر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نیا میری ٹائم اتحاد عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم اس سے علاقائی تناؤ میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کا مؤقف ہے کہ اس اتحاد کے دروازے تمام ایسے ممالک کے لیے کھلے ہیں جو خطے میں امن اور سلامتی کے خواہاں ہیں۔