LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران پر معاشی دباؤ: آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کی تفصیلات

News Image
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر مکمل معاشی پابندیاں عائد کرنے کے لیے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تہران کی معیشت کو شدید دباؤ میں لا کر اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے ایران کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کا آغاز کرتے ہوئے 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے اس اہم پالیسی کا مقصد ایران کو بین الاقوامی معاشی نظام سے مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا ہے۔ اس اقدام کو تہران کے خلاف ایک بڑا معاشی وار قرار دیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایرانی حکومت کی مالی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے تاکہ خطے میں ان کے اثر و رسوخ اور نیوکلیئر و میزائل پروگراموں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ حکمت عملی سابقہ دور کی 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' (Maximum Pressure) کی پالیسی کا ہی تسلسل ہے، لیکن اس بار اس کا دائرہ کار کہیں زیادہ وسیع اور سخت ہے۔ واشنگٹن میں موجود حکام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکومت اپنی آمدنی کا بڑا حصہ علاقائی تنازعات اور پراکسی گروپس کی حمایت پر خرچ کرتی ہے، جسے روکنے کا واحد راستہ ان کی معیشت کا گلا گھونٹنا ہے۔ اس آپریشن کے تحت دنیا بھر کے مالیاتی اداروں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کا لین دین جاری رکھا تو انہیں سخت امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب تہران نے امریکی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکی پابندیاں عام شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں، لیکن وہ کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ تہران نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکی آپریشن مکمل طور پر کامیاب ہوتا ہے تو ایران کو طویل المدتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی ان پیشرفتوں پر مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ ممالک اس پیشرفت کو خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لیے خوش آئند قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شروع کیے گئے اس 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کے عالمی منڈیوں اور ایران کے داخلی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔