Business
ٹرمپ میڈیا اور ٹروتھ سوشل کی نئی سبسکرپشن سروس پر بحث
ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کے عبوری سی ای او کیون میک گرن نے پلیٹ فارم پر ٹرمپ کی پوسٹس تک تیز رفتار رسائی کے عوض معاوضہ لینے کے اقدام کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس متنازع سروس کے متعارف ہونے کے بعد سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کے عبوری سی ای او کیون میک گرن نے پیر کے روز کمپنی کی جانب سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 'ٹروتھ سوشل' پوسٹس تک تیز رفتار اور ترجیحی رسائی فراہم کرنے کے فیصلے کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ یہ سروس ایک ایسے وقت میں متعارف کرائی گئی ہے جب کمپنی کو اپنے مالی ماڈل کو بہتر بنانے اور آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ناقدین کی جانب سے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ ایک کاروباری حکمت عملی ہے جس کا مقصد پلیٹ فارم کو مالی طور پر مستحکم کرنا ہے۔ کیون میک گرن کے مطابق، اس نئی سروس کے اجراء کے بعد سے سبسکرائبرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صارفین ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو جلد از جلد پڑھنے کے لیے قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ ٹرمپ میڈیا کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ 'ٹروتھ سوشل' ایک منفرد پلیٹ فارم ہے جہاں سابق صدر کے پیروکار براہ راست ان سے جڑنا چاہتے ہیں اور ایسی خدمات کی مانگ مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ اگرچہ اس متنازع سروس کے حوالے سے عوامی اور کاروباری حلقوں میں ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے، لیکن کمپنی اپنے اس فیصلے پر قائم ہے۔ کیون میک گرن کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات تک تیز رفتار رسائی ایک قیمتی اثاثہ ہے اور کمپنی اسی اثاثے کو مانیٹائز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ میڈیا کا یہ اقدام براہ راست اس کی مالی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب کمپنی اسٹاک مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ کاروباری ماڈل طویل مدت تک برقرار رہ پاتا ہے یا اسے عوامی دباؤ کے باعث کسی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔