LIVE
Loading Breaking News...

بین الاقوامی مالیاتی خدمات میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا حکومتی لائحہ عمل

News Image
حکومت نے ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی خدمات کے شعبے میں ملازمتوں کی تعداد کو 2030 تک 70 ہزار تک پہنچانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک چوتھائی ملازمتیں ڈبلن سے باہر کے علاقوں میں تخلیق کی جائیں گی۔
حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی خدمات کے شعبے کو فروغ دینے اور اس میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی ہدف 2030 تک اس شعبے میں ملازمتوں کی کل تعداد کو 70 ہزار تک پہنچانا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ ملک میں مالیاتی خدمات کی صنعت کو بین الاقوامی سطح پر مزید مسابقتی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ حکام کے مطابق اس شعبے میں اس وقت بھی سینکڑوں کمپنیاں فعال ہیں جو ملکی معیشت میں اربوں روپے کا حصہ ڈال رہی ہیں۔ اس حکمت عملی کی ایک اہم خصوصیت ملازمتوں کی منصفانہ تقسیم ہے۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے کہ پیدا ہونے والی کل ملازمتوں میں سے کم از کم ایک چوتھائی ملازمتیں دارالحکومت ڈبلن سے باہر کے علاقوں میں قائم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے دیگر علاقوں میں بھی معاشی ترقی کو فروغ دینا اور علاقائی تفاوت کو کم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے چھوٹے شہروں میں مالیاتی مراکز کے قیام کی راہ ہموار ہوگی اور مقامی آبادی کو روزگار کے لیے بڑے شہروں کی طرف ہجرت نہیں کرنا پڑے گی۔ اس منصوبے کے تحت متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہارتوں کی تربیت اور انفراسٹرکچر کی فراہمی پر خصوصی توجہ دیں۔ بین الاقوامی مالیاتی خدمات کے شعبے میں مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی مانگ میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر مخصوص کورسز اور تربیتی پروگرام بھی شروع کرے گی۔ اس سے مقامی نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر مالیاتی خدمات فراہم کرنے کے لیے درکار مہارت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ حکومت پرعزم ہے کہ یہ پالیسی ملک کو دنیا بھر میں ایک اہم مالیاتی مرکز کے طور پر ابھارنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے نجی شعبے کے ساتھ اشتراک عمل کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو ترغیبات دی جائیں گی تاکہ وہ دارالحکومت سے دور اپنی شاخیں اور آپریشنز قائم کریں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس حکمت عملی کے نتائج آنے والے چند برسوں میں واضح ہونا شروع ہو جائیں گے، جس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ ٹیکس ریونیو میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ حکومت اس پیشرفت کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے رہی ہے جو وقتاً فوقتاً اہداف کے حصول کا جائزہ لے گی۔