Health
گھر پر سروائیکل کینسر ٹیسٹ: این ایچ ایس کا اہم اقدام
این ایچ ایس نے انگلینڈ میں سروائیکل کینسر کی تشخیص کے لیے گھر پر ٹیسٹ کرنے والی کٹس کا اجرا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام ان چار ملین خواتین کے لیے ہے جو معمول کے طبی معائنے کے لیے ہسپتال جانے میں ناکام رہی تھیں۔
برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس (NHS) نے خواتین کی صحت کو بہتر بنانے اور سروائیکل کینسر کی شرح کو کم کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے گھر پر کیے جانے والے اسمیئر ٹیسٹ (DIY smear tests) کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ نئی سہولت ان چار ملین خواتین کو فراہم کی جا رہی ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے کلینک کے طے شدہ معائنے میں شرکت کرنے سے قاصر رہی تھیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ گھر بیٹھے ٹیسٹ کی سہولت سے نہ صرف اسکریننگ کی شرح میں اضافہ ہوگا بلکہ بروقت تشخیص کے ذریعے بہت سی جانیں بھی بچائی جا سکیں گی۔
اس نئے پروگرام کے تحت خواتین کو ان کے گھروں پر ٹیسٹ کٹس ارسال کی جا رہی ہیں جنہیں وہ خود استعمال کر سکتی ہیں۔ ان کٹس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کوئی بھی خاتون انتہائی آسانی اور رازداری کے ساتھ اپنا ٹیسٹ مکمل کر سکے۔ این ایچ ایس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق یہ عمل نہایت سادہ ہے، اور اسے گھر، دفتر یا کسی بھی نجی مقام پر مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ان ٹیسٹ کٹس کو واپس لیبارٹری بھجوانے کا عمل بھی آسان بنایا گیا ہے تاکہ خواتین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
ماہرین صحت کے مطابق سروائیکل کینسر کے خلاف جنگ میں اسکریننگ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ کئی خواتین ہسپتال کے ماحول یا مصروف شیڈول کی وجہ سے چیک اپ کروانے سے گریز کرتی ہیں، جس سے کینسر کے خلیات پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔ گھر پر ٹیسٹ کرنے کی سہولت ان رکاوٹوں کو ختم کرتی ہے اور خواتین کو اپنی صحت کی ذمہ داری خود لینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس اقدام کو برطانیہ بھر میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
این ایچ ایس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کٹس کو وصول کرنے کے بعد دی گئی ہدایات پر مکمل عمل کریں اور ٹیسٹ کو بروقت واپس بھجوائیں۔ یہ پروگرام نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کا درست استعمال ہے بلکہ طبی سہولیات کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کا ایک عملی نمونہ بھی ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سروائیکل کینسر کو ابتدائی مرحلے میں پکڑنا مکمل علاج کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے اس پروگرام کا حصہ بننا تمام خواتین کے لیے انتہائی ضروری ہے۔