World
سوڈان بحران: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صورتحال پر تشویش کا اظہار
سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی، قحط اور سیلابی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں عالمی برادری کی جانب سے اقدامات نہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈانی شہری اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں جبکہ پاکستان نے بھی آر ایس ایف کی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس سوڈان میں جاری سنگین انسانی بحران، خانہ جنگی کے پھیلاؤ، قحط اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔ اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ نے سوڈان میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی برادری کی جانب سے 'اقدامات کے فقدان' کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری لڑائی نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں شریک مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی مداخلت اور امداد کا سلسلہ تیز نہ کیا گیا تو سوڈان مکمل تباہی کی جانب گامزن ہو جائے گا۔
اس موقع پر پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے بھی سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی میں شہریوں کو نشانہ بنانا اور متوازی حکومت قائم کرنے کی کوششیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں کی پاسداری کریں اور پرامن حل کے لیے سیاسی مذاکرات کی میز پر آئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سوڈانی عوام کی خودمختاری اور استحکام کا حامی ہے اور ملک میں طاقت کے زور پر مسلط ہونے والے کسی بھی غیر آئینی اقدام کو مسترد کرتا ہے۔
ادھر سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں سفیر نے بھی ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے نہتے سوڈانی شہریوں پر کیے جانے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی نمائندے کا کہنا تھا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور اس سے ملک میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری امدادی کاموں میں بھی شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ سوڈان میں جنگ کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی ملک کے بڑے حصے قحط کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ حالیہ شدید سیلاب نے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح تباہ کر دیا ہے، جس سے خوراک اور ادویات کی سپلائی لائنز منقطع ہو گئی ہیں۔ عالمی رہنماؤں نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ سوڈان کو مکمل انسانی تباہی سے بچانے کے لیے تمام عالمی طاقتوں کو اپنے اختلافات بھلا کر فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔