Politics
اڈیالہ جیل: عمران خان اور ان کی ہمشیرہ کے درمیان ملاقات
سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے عدالتی احکامات کے تحت اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات سپریم کورٹ کی جانب سے ہفتہ وار ملاقاتوں کے حکم پر عملدرآمد کے سلسلے میں دوسری بار ہوئی ہے۔
اسلام آباد کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے منگل کے روز ملاقات کی۔ یہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی دوسری مسلسل ملاقات ہے، جس کا اہتمام سپریم کورٹ آف پاکستان کے جاری کردہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے رواں برس اگست میں ایک اہم فیصلے کے ذریعے حکام کو ہدایت کی تھی کہ قیدیوں کو ان کے اہل خانہ سے ہفتے میں کم از کم ایک بار ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم مسلسل کوشاں ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل اویس یونس چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ ملاقات کا دورانیہ تقریباً 45 منٹ رہا، جس کے دوران خاندان کے دیگر افراد بھی جیل کے احاطے میں موجود تھے تاہم ملاقات کے بعد میڈیا سے کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت مکمل طور پر عدالتی ہدایات اور ان کے تقدس پر کاربند ہے اور خاندان کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ عدالتی احکامات کی روشنی میں میڈیا سے گفتگو سے گریز کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی کی جانب سے بانی چیئرمین کی جیل میں سہولیات اور طبی نگہداشت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ پارٹی کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عدالت کے بروقت فیصلوں کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہو سکا ہے کہ قید کے دوران ملاقاتوں کا سلسلہ بحال ہو سکے۔ مزید برآں، پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مطالبہ بھی دہرایا گیا ہے کہ بانی چیئرمین کو طبی معائنے کے لیے نجی ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ان کے ذاتی معالج ان کا معائنہ کر سکیں۔ ماضی میں جب عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا، تو اس وقت وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیکیورٹی کے معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے تھے، جس کے بعد حکومتی وزیر عطا اللہ تارڑ نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا تھا۔ عدالتی احکامات کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ جیل حکام ملاقاتوں کے اس شیڈول کو مستقبل میں بھی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھیں گے تاکہ قانونی اور خاندانی رابطوں میں کسی قسم کی خلل نہ پڑے۔