LIVE
Loading Breaking News...

پرپلیکسیٹی اے آئی میں انوڈیا کی بڑی سرمایہ کاری کا امکان

News Image
چپ ساز کمپنی انوڈیا مصنوعی ذہانت کے سرچ انجن پرپلیکسیٹی اے آئی میں نئی سرمایہ کاری کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ اس اقدام سے پرپلیکسیٹی کی مارکیٹ ویلیو 30 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری تیزی کے درمیان چپ ساز کمپنی انوڈیا ایک بار پھر خبروں کی سرخیوں میں ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، انوڈیا مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ اسٹارٹ اپ پرپلیکسیٹی اے آئی (Perplexity AI) میں مزید سرمایہ کاری کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا جا رہا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور بڑی کمپنیاں اس شعبے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ دی انفارمیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، انوڈیا اور پرپلیکسیٹی کے درمیان سرمایہ کاری کے حوالے سے ابتدائی بات چیت کا عمل جاری ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پرپلیکسیٹی کی کل مارکیٹ ویلیو یا ویلیوایشن 30 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ پرپلیکسیٹی اے آئی نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران گوگل جیسے بڑے سرچ انجنوں کے متبادل کے طور پر تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کے جدید ترین اے آئی ماڈلز اور درست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔ انوڈیا کے لیے اس طرح کی سرمایہ کاری انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے۔ کمپنی نہ صرف اپنی ہارڈویئر مصنوعات، بالخصوص جی پی یو (GPU) کے ذریعے اے آئی انقلاب کی قیادت کر رہی ہے بلکہ وہ ان کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے جو اے آئی ماڈلز کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی انوڈیا کئی اہم اے آئی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس سے نہ صرف انوڈیا کو مالی فائدہ ہوتا ہے بلکہ اسے مارکیٹ کے رجحانات کو سمجھنے اور اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پرپلیکسیٹی کی قدر میں یہ ممکنہ اضافہ ثابت کرتا ہے کہ اے آئی سرچ انجن مارکیٹ میں کس قدر گنجائش موجود ہے۔ اگر انوڈیا کی جانب سے یہ سرمایہ کاری کامیاب رہتی ہے، تو پرپلیکسیٹی اے آئی کو مزید جدید فیچرز متعارف کروانے اور اپنے بنیادی ڈھانچے کو وسیع کرنے کے لیے درکار وسائل میسر آئیں گے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے حتمی ہونے کی صورت میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئے گی، جس سے سرچ انجن کی صنعت میں مسابقت مزید سخت ہو جائے گی۔