Technology
وی کے اور ایپل کا قانونی تنازع: روسی کمپنی کا روزانہ لاکھوں ڈالر ہرجانے کا مطالبہ
روسی ٹیک کمپنی وی کے نے ایپل کی جانب سے اپنی ایپس کو اسٹور سے ہٹانے کے اقدام پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایپل یا تو ایپس بحال کرے یا اسے روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانہ ادا کرے۔
روسی ٹیکنالوجی کے شعبے کی بڑی کمپنی 'وی کے' (VK) نے ایپل کے خلاف ایک اہم قانونی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایپل نے اپنی ایپ اسٹور سے وی کے کی اہم ایپلی کیشنز کو ہٹا دیا، جس کے بعد کمپنی کو شدید کاروباری نقصان کا سامنا ہے۔ اس اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وی کے نے عدالت سے رجوع کیا ہے اور ایپل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان ایپس کو بحال کرے، بصورت دیگر اسے روزانہ کی بنیاد پر 58 ملین روبل یعنی تقریباً 6 لاکھ 96 ہزار ڈالر ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ایک بڑی مقامی کمپنی نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کے یکطرفہ فیصلوں کو چیلنج کیا ہے۔ وی کے کا مؤقف ہے کہ ایپل کا یہ اقدام نہ صرف مسابقت کے قوانین کے منافی ہے بلکہ اس سے صارفین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرے گی تاکہ ایپل کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایپل کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم کمپنی اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کا دفاع کرتی رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع ایپل اور روسی حکومت کے درمیان کشیدہ تعلقات کا عکاس بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ روس پہلے ہی بیرونی ٹیک کمپنیوں پر اپنے قوانین کے اطلاق کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ وی کے کی جانب سے طلب کیا گیا بھاری ہرجانہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارم پر موجود لاکھوں صارفین تک رسائی کے لیے کتنی سنجیدہ ہے اور وہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مصالحت کے بجائے قانونی عدالت کے ذریعے انصاف چاہتی ہے۔
آنے والے دنوں میں اس مقدمے کی سماعت کا فیصلہ عالمی ٹیک مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر عدالت وی کے کے حق میں فیصلہ سناتی ہے، تو یہ ایپل کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہوگا اور ممکنہ طور پر دیگر کمپنیاں بھی اسی طرح کے اقدامات اٹھا سکتی ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں اس قانونی جنگ پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا ایپل اپنے ایپ اسٹور کے قوانین پر قائم رہے گا یا پھر روسی کمپنی کے دباؤ کے سامنے جھک کر ایپلی کیشنز کو دوبارہ بحال کر دے گا۔