LIVE
Loading Breaking News...

ڈیجیٹل پروجیکٹس کے لیے حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے پارٹنرز لائے گی

News Image
بھارتی حکومت اپنے ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید نئے شراکت داروں کی تلاش کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنا ہے۔
نئی دہلی: حکومتِ ہند اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی لانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے میدان میں اپنے شراکت داروں کے حلقے کو مزید وسیع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق حکومت کا ماننا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی ٹیکنالوجی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف چند محدود کمپنیوں پر انحصار کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید ماہر اور جدت پسند پارٹنرز کو شامل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد سرکاری خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور رفتار کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت ایسے پروجیکٹس پر کام کرنا چاہتی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کا استعمال ڈیٹا کے تجزیے، انتظامی امور اور عوام تک براہ راست خدمات پہنچانے کے لیے کیا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسابقت بڑھے گی بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے حل بھی کم وقت میں تیار ہو سکیں گے، جس سے مجموعی طور پر ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ نئے پارٹنرز کی شمولیت کے لیے معیارات کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ ایسی کمپنیوں کا انتخاب کیا جا سکے جو نہ صرف تکنیکی مہارت رکھتی ہوں بلکہ ڈیٹا سیکیورٹی اور عوامی رازداری کے اصولوں پر بھی سختی سے کاربند ہوں۔ اس پیش رفت کو ماہرین ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت کا استعمال اب حکومتی پالیسی سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس حوالے سے مزید ٹینڈرز جاری کیے جائیں گے اور نئے شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ حکومت کا یہ قدم ڈیجیٹل انڈیا کے ویژن کو مزید تقویت دے گا، جس کے تحت مستقبل میں ہر سرکاری شعبے کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ اس وسیع تر نیٹ ورک سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہونے کی بھی امید ہے، کیونکہ مزید کمپنیاں جب حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گی تو انہیں ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت بھی پڑے گی۔