LIVE
Loading Breaking News...

شام دہشت گردی کی امریکی فہرست سے خارج، صدر بشار الاسد کا ردعمل

News Image
امریکہ کی جانب سے شام کو دہشت گردی کے ریاستی سرپرستوں کی فہرست سے نکالے جانے کے فیصلے کا عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گیا ہے۔ شامی صدر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک کے لیے ماضی کے بوجھ سے نجات حاصل کرنے اور ترقی کی نئی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
امریکہ کی جانب سے شام کو 'دہشت گردی کے ریاستی سرپرستوں' کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ ایک تاریخی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے جس کے بعد خطے کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ شامی صدر نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ ملک نے اپنے ماضی کے تلخ حالات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب شام عالمی برادری کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کرنے کی جانب گامزن ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف سفارتی محاذ پر پیش رفت ہوگی بلکہ طویل عرصے سے جاری معاشی تنہائی کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ کے اس اقدام کو خطے کے دیگر ممالک بالخصوص خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کی فہرست سے نام نکلنے کے بعد شام میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ اس سے قبل یہ پابندیاں شام کی معیشت کے لیے شدید نقصان دہ تھیں اور ملک کے مالیاتی نظام کو عالمی منڈیوں سے الگ تھلگ کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا عمل بھی سست روی کا شکار تھا۔ دوسری جانب، یہ فیصلہ شام کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے حکومت کو اپنے داخلی معاملات اور تعمیر نو کے کاموں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا۔ اگرچہ تاحال کئی دیگر چیلنجز بدستور موجود ہیں، لیکن دہشت گردی کے لیبل کا ہٹنا شام کی بین الاقوامی حیثیت میں بہتری لانے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں شام اور اس کے اتحادیوں کے درمیان روابط میں اضافہ ہوگا اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔ عالمی سطح پر اس فیصلے کو شام کے بحران کے خاتمے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرینِ امورِ خارجہ کے مطابق، یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ واشنگٹن اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لا رہا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے توازن کو قائم کیا جا سکے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ شام کی معیشت کتنی جلدی اس فیصلے سے فائدہ اٹھاتی ہے اور کیا یہ اقدام دیگر علاقائی تنازعات کے حل میں بھی معاون ثابت ہوگا۔