World
بھارت میں ایک بار پھر مظاہروں کا سلسلہ، پولیس کے ساتھ تصادم
بھارت میں ایک ماہ قبل شروع ہونے والی نوجوان نسل کی احتجاجی تحریک کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔
بھارت میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں جب پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب ملک کی نئی نسل (Gen Z) کی جانب سے شروع کیے گئے احتجاج کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے۔ دارالحکومت اور دیگر اہم شہروں میں سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے، جس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سختی کا مظاہرہ کیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے بعد علاقے میں تصادم کی فضا قائم ہو گئی۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں، تاہم حکومتی اقدامات ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ماہ قبل شروع ہونے والی اس تحریک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی، جو اب بھی مختلف شہروں میں اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔
مقامی سطح پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے، تاہم جھڑپوں کے باعث عام زندگی معمول کے مطابق نہیں چل پا رہی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین پر تحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے۔ فی الحال صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور حکام کی جانب سے مزید سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ بھارت کی نوجوان نسل، جو سماجی میڈیا کے ذریعے منظم ہو کر سامنے آئی ہے، اپنی طاقت کا لوہا منوانے کے لیے پرعزم ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ تحریک کس رخ مڑے گی، یہ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم ملک میں جاری اس سیاسی اور سماجی بحران نے حکومتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔