Politics
بھارت میں کاک روچ تحریک اور مودی حکومت کو درپیش سیاسی چیلنجز
بھارت میں نوجوانوں کی زیر قیادت چلنے والی 'کاک روچ جنتا پارٹی' کی احتجاجی تحریک نے نریندر مودی کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس طاقتور احتجاج کے نتیجے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت پر طویل عرصے سے یہ تاثر عام تھا کہ اس کے وزراء عوامی دباؤ کے سامنے کبھی استعفیٰ نہیں دیتے، تاہم یہ طلسم گزشتہ دنوں اس وقت ٹوٹ گیا جب ملک کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ نئی دہلی میں 'کاک روچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے کامیاب مظاہروں اور ملک بھر کے نوجوانوں میں پھیلنے والے شدید غصے کے بعد یہ تاریخی فیصلہ سامنے آیا۔ سال 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی حکومت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کابینہ وزیر کو اس طرح کے عوامی دباؤ کے تحت مستعفی ہونا پڑا ہو۔ اس سیاسی پیش رفت نے آنے والے ریاستی انتخابات بالخصوص اتر پردیش کے اہم انتخابات سے قبل حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور مودی کی سوانح حیات لکھنے والے نیلنجن مکھೋಪাধ্যায় کے مطابق، ان کامیاب احتجاجی مظاہروں نے مودی کے مضبوط رہنما کے امیج کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور اسے بھارتی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب عوام کے دلوں سے حکومت کا خوف ختم ہو چکا ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ نوجوانوں نے پولیس کے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ کے باوجود اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ دوسری جانب، ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے اس تحریک سے جنم لینے والی سیاسی لہر کو بھرپور انداز میں کیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے وزیر داخلہ امت شاہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ دہلی پولیس اور نیم فوجی دستے وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ تاہم، بی جے پی اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت نے سی جے پی کے مطالبات کے آگے اس لیے گھٹنے ٹیکے کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ مزید سختی سے نوجوانوں میں بی جے پی کی حمایت کا تناسب متاثر ہو سکتا ہے۔ سنہ 2024 کے عام انتخابات میں 18 سے 25 سال کی عمر کے لگ بھگ 39 فیصد ووٹرز نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا، جو تمام جماعتوں میں سب سے زیادہ یوتھ ووٹ شیئر تھا۔ لیکن پارٹی حکام امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے اس سنگین مسئلے پر نوجوانوں کے اندر موجود اس طوفانی غصے کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔ ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ میں امتحانات میں بدعنوانی کے خلاف قانون کی منظوری اور ایک ٹاسک فورس کے قیام جیسے اقدامات کیے ہیں، لیکن احتجاجی گروپ ان اقدامات کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ طلباء کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا اور اگر ضرورت پڑی تو ماضی سے بھی بڑے پیمانے پر دوبارہ احتجاج کیا جائے گا، جس سے آنے والے دنوں میں حکمران جماعت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔