World
توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ: سردیوں میں عوام پر بوجھ بڑھے گا
برطانیہ کے انرجی ریگولیٹر آفجیم کی جانب سے توانائی کی قیمتوں کی حد میں اضافے کے اعلان کے بعد لاکھوں گھرانے متاثر ہوں گے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی توانائی کے بلوں میں متوقع اضافے نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
برطانیہ کے توانائی ریگولیٹر 'آفجیم' (Ofgem) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، آنے والے موسم سرما میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے، جس سے لاکھوں گھرانوں کے بجٹ پر گہرا اثر پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں گزشتہ تین سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں توانائی کے ذرائع کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور سپلائی چین میں درپیش مشکلات ہیں۔ ریگولیٹر کی جانب سے قیمتوں کی حد (Price Cap) میں ترمیم کا فیصلہ عام شہریوں کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے جو پہلے ہی افراطِ زر کے دباؤ کا شکار ہیں۔
حکومتی اور سماجی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فلاحی تنظیموں کا ماننا ہے کہ موسم سرما کے دوران جب گھروں کو گرم رکھنے کے لیے توانائی کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، اس وقت قیمتوں کا بلند ہونا کم آمدنی والے طبقے کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کو یہ انتخاب کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے گھروں کو گرم رکھیں یا خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کریں۔ حکومتی سطح پر اگرچہ کچھ ریلیف پروگراموں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم توانائی کی بلند قیمتوں کا اثر عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق یہ صورتحال صرف وقتی نہیں ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں جاری عالمی بحران کا ایک تسلسل ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مختلف سبسڈی اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے، مگر آفجیم کی جانب سے قیمتوں میں کیا جانے والا یہ اضافہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے توانائی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور بچت کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی نیا مالیاتی پیکیج لاتی ہے یا عوام کو خود ہی اس مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ اس خبر نے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور سیاسی حلقوں میں بھی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔