LIVE
Loading Breaking News...

پرائیڈ منتھ پر تنقید: کارپوریٹ دنیا اور ایل جی بی ٹی کمیونٹی میں بڑھتی تقسیم

News Image
پرائیڈ منتھ کے حوالے سے کارپوریٹ دنیا میں پائے جانے والے جوش و خروش میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور اب کمپنیاں محتاط انداز اپنا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف باہر بلکہ ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے اندر بھی شدید بحث و مباحثے کو جنم دیا ہے۔
ماضی میں جون کے مہینے کو 'پرائیڈ منتھ' کے طور پر منانے کے لیے بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی برانڈز بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، تاہم رواں برس صورتحال کافی مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ دنیا میں اب ایک واضح بے چینی اور محتاط رویہ پایا جاتا ہے کیونکہ کمپنیاں کسی بھی قسم کے بڑے تنازعات سے بچنے کے لیے اپنی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر سیاسی اور معاشرتی تقسیم گہری ہو چکی ہے اور پرائیڈ کے حوالے سے کی جانے والی تشہیر پر تنقید میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کا ایک اہم پہلو خود ایل جی بی ٹی (LGBT) کمیونٹی کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں ہیں۔ کمیونٹی کے کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ کمپنیاں صرف 'پنک واشنگ' (Pinkwashing) کر رہی ہیں اور ان کا مقصد حقیقی اصلاحات کے بجائے صرف منافع کمانا اور مارکیٹنگ تک محدود ہے۔ ان ناقدین کے نزدیک بڑی کمپنیوں کا پرائیڈ کا ساتھ دینا صرف ایک تجارتی حربہ ہے جس کا مقصد اپنی ساکھ بہتر بنانا ہے، نہ کہ حقوق کے لیے مخلصانہ جدوجہد۔ یہ اندرونی مخالفت پرائیڈ کے انعقاد اور اس کی حمایت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، کمیونٹی سے باہر بھی پرائیڈ کے حوالے سے عوامی رائے منقسم نظر آتی ہے۔ خاص طور پر قدامت پسند حلقوں اور کئی معاشرتی تنظیموں کی جانب سے کمپنیوں کی اس حمایت پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس کی وجہ سے کئی برانڈز کو بائیکاٹ اور آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس دباؤ نے کمپنیوں کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے، جس کے نتیجے میں اب بہت سے ادارے عوامی سطح پر پرائیڈ کی حمایت کرنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچ سکیں۔ مستقبل کے تناظر میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا کارپوریٹ ادارے پرائیڈ کے حوالے سے اپنے روایتی انداز کو برقرار رکھ پائیں گے یا پھر وہ ایک نئی اور زیادہ غیر جانبدارانہ حکمت عملی اپنائیں گے۔ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سماجی اور سیاسی ماحول میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ، ثقافتی تہواروں اور ان پر ملنے والی کارپوریٹ حمایت کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے، جس کے اثرات طویل المدتی بنیادوں پر محسوس کیے جائیں گے۔